اسرائیلی فوج نے شیرین ابوعاقلہ کی موت کا سبب رائفل کو شناخت کرلیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی فوج نے اپنے ایک فوجی کی اس رائفل کی نشان دہی کی اطلاع دی ہےجس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس سے فلسطینی نژاد امریکی صحافیہ شیرین ابوعاقلہ کو گولی ماری گئی تھی لیکن ایک فوجی عہدہ دار نے کہا ہے کہ اس بندوق کی اس وقت تک یقینی شناخت نہیں ہوسکتی جب تک فلسطینی تجزیے کے لیے ابوعاقلہ کو لگنے والے گولی مہیّانہیں کردے دیتے۔

صہیونی فوج کے اس اعلان سے ابوعاقلہ کے قتل کی تحقیقات میں پیش رفت کا ایک معمولی سا اشارہ مل گیا ہے۔انھیں 11 مئی کو مقبوضہ مغربی کنارے میں جنین کے پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی فوجیوں کی چھاپا مارکارروائی کی کوریج کے دوران میں جان لیوا گولی مار دی گئی تھی۔

فلسطینی حکام نے ابوعاقلہ کے ساتھی صحافیوں کے حوالے سے کہا تھا کہ انھیں قریب تعینات اسرائیلی فوجیوں نے گولی کا نشانہ بنایا تھا جبکہ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھیں فوجیوں اور فلسطینی مسلح افراد کے درمیان جھڑپ کے دوران میں گولی ماری گئی تھی اورمناسب تجزیے کے بغیراس بات کا تعیّن نہیں کیاجاسکتا کہ یہ مہلک گولی کس نے چلائی تھی۔

اسرائیل نے فلسطینیوں کے ساتھ مشترکہ تحقیقات پرزوردیا ہے لیکن فلسطینیوں نے یہ کہتے ہوئے اس سے انکارکردیا ہے کہ انھیں اسرائیل پربھروسا نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ واقعہ کی اپنی تحقیقات کررہے ہیں اور وہ اسرائیل کے سواکسی بھی ملک کے ساتھ اس ضمن میں تعاون کرنے کوتیارہیں۔

اسرائیلی فوج کے ایک عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ اگرچہ گولی کا منبع ابھی تک واضح نہیں لیکن ہم آئی ڈی ایف (اسرائیلی دفاعی افواج) کے اس ہتھیارتک پہنچ گئے ہیں جو شیرین ابوعاقلہ کے نزدیک فائرنگ کے تبادلے میں ممکنہ طور پراستعمال کیا گیا تھا۔

انھوں نے فلسطینیوں سے گولی مہیا کرنے کے مطالبے کا اعادہ کیا ہے اورکہا کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں توامید ہے کہ اسرائیل گولی کا موازنہ اس بیرل سے کرسکے گا جہاں سے یہ نکلی تھی اور یہ جانچ کرسکے گا کہ ان دونوں میں کیا تال میل ہے۔

اسرائیلی فوج نے گذشتہ ہفتے ابتدائی تحقیقات کے نتائج جاری کیے تھے۔ان میں موت کی دو ممکنہ وجوہات پیش کی گئی تھیں۔ایک منظرنامے میں کہا گیا تھا کہ ابوعاقلہ اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ شدید فائرنگ کے دوران میں فلسطینی فائرنگ کا نشانہ بن گئی ہوں گی۔

دوسرے منظرنامے میں کہا گیا ہے کہ شاید ابوعاقلہ کوکسی اسرائیلی فوجی نے نشانہ بنایا ہوگا اور وہ اس وقت فوجی گاڑی پر فائرنگ کرنے والے فلسطینی بندوق بردار پرجوابی فائرنگ کررہا تھا اوراس نے’’نامزد فائرنگ ہول‘‘ سے گولی چلائی تھی جوابوعاقلہ کو جالگی۔اس میں کہا گیا ہے کہ حکام گولی کا تجزیہ کیے بغیراس کے ماخذ کا تعیّن نہیں کرسکتے۔فلسطینی اس واقعہ کی ازخود تحقیقات کررہے ہیں۔

گذشتہ جمعہ کو فلسطینی سرکاری وکیل نے کہا تھا کہ ابتدائی نتائج سے ظاہرہوا ہے کہ ابوعاقلہ اسرائیلی فوجیوں کی جان بوجھ کر کی گئی فائرنگ کا نشانہ بنی تھیں۔فلسطینی استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی تفتیش جاری رہے گی۔

نیدرلینڈزکی ایک آزاد اوپن سورس ریسرچ فرم بیلنگ کیٹ نے سوشل میڈیا پرپوسٹ کی گئی ویڈیوز سے جمع ہونے والے مواد کا اپنا تجزیہ پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے ابتدائی نتائج نے فلسطینی گواہوں کی حمایت کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ الجزیرہ کی تجربہ کارنامہ نگاراسرائیلی گولی ہی کا نشانہ بنی تھیں۔

واضح رہے کہ شیرین ابوعاقلہ عرب دنیا میں ایک گھریلو نام تھیں۔ وہ اسرائیلی فوج کے زیرقبضہ علاقوں میں فلسطینی زندگی کی مشکلات کو دستاویزی شکل دینے کے لیے جانی جاتی تھیں۔دنیا بھر سے ان کے اندوہناک قتل کی مذمت کی گئی ہے اور اس واقعے پرتشویش کے بیانات سامنے آئے۔اس کے علاوہ اسرائیلی پولیس کے جارحانہ طرزعمل کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس نے گذشتہ جمعہ کو ان کی آخری رسومات کے موقع پر سوگواروں پردھاوا بول دیا تھا اورانھیں تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس کی وجہ سے سوگواروں کے ہاتھوں سے مقتولہ صحافیہ کا تابوت بھی گرگیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں