سعودی وزارت ثقافت کے زیراہتمام کلاسیکی سنگنگ فیسٹیول اختتام پذیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کی وزارت ثقافت کے زیراہتمام مُملکت میں معیاری عربی نغموں کے حوالے سے منعقدہ ’موسیقی میلہ‘ کل ہفتے کواختتام پذیر ہوگیا۔ موسیقی میلے کی تقریب فن کارکاظم الساھر اور سعودی گلوکارہ زینہ عماد کی آوازمیں مشترکہ گانے کے ساتھ ختم ہوئی۔ یہ تقریب ریاض بلیوارڈ کے ابوبکر سالم تھیٹر میں منعقد ہوئی اور یہ اپنی نوعیت کا پہلا کنسرٹ تھا۔

فنکارہ زینہ عماد نے مستند فن اور اس کے مداحوں کے لیے مسلسل تعاون پر وزارت ثقافت کا شکریہ ادا کیا۔ رات کے وقت ہونے والی اس محفل موسیقی میں نغموں کا ایک البم پیش کیا گیا۔ فصیح عربی زبان میں پیش کیے گئے نغموں میں مشہور عرب شاہر قیس بن ملوح کا’ولما تلاقینا‘، یزید بن معاویہ کے’اصابک عشق‘ اور شاندار عربی شاعری سے ماخوذ’قولو لھا‘ جیسے نغمے شامل تھے۔

عراقی گلوکار کاظم الساھر نے موسیقی کی رات کا اختتام کرتے ہوئے لغت ’ضاد‘ موسیقی کے جوہر دکھائے اور حاضرین سے داد تحسین حاصل کی۔ گلوکار الساھر کے فنی کیریئرمیں شاعر حسن المروانی کا’انا ولیلی‘ نزار قبانی کے’زیدینی عشقا‘، والمستبد اور ھل عندک شک جیسے نغمےعوام میں غیرمعمولی مقبولیت حاصل کرچکے ہیں۔

پہلی رات

محفل موسیقی کی پہلی شب بدر حکیم، جاھدہ، ھبہ، لطفی بوشناق اور دیگر فن کاروں نے موسیقی کےجوہر دکھائے۔اس محفل میں کلاسیقی عربی زبان میں نغمے پیش کیے گئے اور گلوکاروں نے کلاسیقی عربی میں اپنا کلام پیش کیا۔ کلام پیش کرنے والوں میں بدر حکیم نے سعودی عرب کی نمائندگی کی۔

بدر حکیم نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی وزارت ثقافت کی طرف سے مجھے اس پروگرام کے لیے نامزد کرنے پرمجھے فخر اور خوشی ہے۔ مجھے حاضرین کی طرف سے غیرمعمولی طور پرپذیرائی ملی اور جاھد، وھبی اور لطفی بوشناق جیسے مہان گلوکاروں کی موجودگی میں اپنےفن کے جوہر دکھانے کا موقع ملا۔

مقبول خبریں اہم خبریں