اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی پیڈرسن کاشام میں قیدیوں کے لیےعام اعلانِ معافی کاخیرمقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام گِیرپیڈرسن نے صدر بشارالاسد کی جانب سے قیدیوں کے لیے عام معافی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔اس کا مقصد دہشت گردی کے الزامات میں سزا یافتہ ہزاروں شامیوں کو رہا کرناہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ صدربشارالاسد نے ملک میں گیارہ سالہ تباہ کن جنگ کے دوران میں کئی مرتبہ معافی دینے کا حکم جاری کیا ہے لیکن اپریل میں معافی کااعلان ملک میں جنگ شروع ہونے کے بعد دہشت گردی کے الزامات سے متعلق سب سے جامع تھا۔

پیڈرسن نے شامی وزیرخارجہ فیصل مقداد سے ملاقات کے بعد دمشق میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’انھیں تازہ اقدامات کے بارے میں کافی تفصیل سےآگاہ کیا گیا ہے‘‘۔

پیڈرسن نے جنیوا میں آیندہ چند روز میں شام کے نئے آئین پربات چیت دوبارہ شروع ہونے سے قبل کہا کہ میں اس معافی کے نفاذ پر پیش رفت سے آگاہ رہنے کا بے حد منتظر ہوں۔یہ معافی ایک موقع فراہم کرتی ہے اور ہم یہ دیکھنے کے منتظرہیں کہ اس پرکیا پیش رفت ہوتی ہے۔

اپریل میں شامی صدر کے جاری کردہ حکم نامے میں دہشت گردی کے الزامات میں سزایافتہ قیدیوں کوعام معافی دی گئی تھی سوائے ان مقدمات میں،جن میں کوئی شخص ہلاک ہوا تھا۔

شام کی وزارت انصاف نے کہاہے کہ سیکڑوں قیدیوں کواب تک رہا کردیا گیا ہے۔ایک فوجی عہدہ داراحمد توزان نے رواں ہفتے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ اس معافی کا اطلاق ہزاروں افراد پر ہوگا۔ان میں وہ شامی بھی شامل ہیں جومطلوب ہیں لیکن حراست میں نہیں لیے گئے ہیں۔

توزان نے رہا ہونے والے قیدیوں کی تعداد ظاہر کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’’تعداد وقت کے لحاظ سے تبدیل ہو رہی ہے‘‘۔

ادھربرطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کا کہنا ہےکہ معافی کے تحت اب تک ملک بھرمیں قریباً 1142 قیدیوں کو رہا کیاجاچکا ہے اور جلد سیکڑوں مزید قیدیوں کی رہائی متوقع ہے۔

اگلے چند روزمیں شام کے متحارب فریقوں کے درمیان 2019 میں شروع ہونے والے ایک عمل کے تحت سوئٹزرلینڈ میں آئینی مذاکرات کا نیا دورہوگا۔امید ہے کہ ان مذاکرات سے وسیع ترسیاسی عمل کی راہ ہموار کرنے میں مددملے گی۔

پیڈرسن نے بھی اس امید کا اظہار کیا ہے کہ یہ ایک مثبت ملاقات ہوگی جو ہمیں آگے لے جانے میں مدد دے سکتی ہے تاکہ ہم دیکھنا شروع کرسکیں اوراعتماد سازی کے کچھ اقدامات کرسکیں۔

شام میں 2011 میں حکومت کی تبدیلی کے مطالبے پر پُرامن مظاہروں سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک نے شامی حکومت کی جبروتشدد کی کارروائیوں کے بعدخانہ جنگی کا رُخ اختیار کرلیا تھا اور یہ مکمل جنگ پر منتج ہوئی تھی۔پھر یہ تنازع تیزی سے ایک پیچیدہ شکل اختیارکرگیا۔اس میں گذشتہ برسوں میں جہادی گروپوں اور غیرملکی طاقتوں سمیت متعدد اداکاروں نے اپنے اپنے کردارادا کیے ہیں۔اس جنگ میں قریباً پانچ لاکھ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔شام میں اس جنگ کے دوران میں اقوام متحدہ تنازع کے سیاسی تصفیے کے لیے مسلسل کوشاں رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں