ایران کا اسرائیلی جاسوس سیل کے ارکان کی گرفتاری کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اتوار نیم سرکاری ایرانی اسٹوڈنٹس نیوز ایجنسی نے بتایا کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک اسرائیلی انٹیلی جنس نیٹ ورک کے ارکان کی نشاندہی کے بعد اس کے متعدد ارکان کو حراست میں لیا ہے۔

پاسداران انقلاب کی پبلک ریلیشن سروس کے مطابق اسرائیل کی انٹیلی جنس سروس کی ہدایت پر مبینہ جاسوس سیل چوری ڈاکہ زنی، نجلی اور عوامی املاک کو تباہ کرنے، اغوا برائے تاوان اور ٹھگوں کے نیٹ ورک کے ذریعے من گھڑت اعترافات حاصل کرنے کی کوشش کی میں ملوث ہے۔

دریں اثنا ایرانی انٹیلی جنس نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے لیے جاسوسی میں ملوث ایک گروپ کو پکڑا گیا ہے جو ایرانی پاسداران انقلاب کے کرنل صیاد خدائی کے اتوار کے روز دارالحکومت تہران کے مرکز میں واقع ان کے گھر کے قریب قتل میں ملوث ہے۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کا تعلق قدس فورس سے تھا اور وہ اس نے پہلے شام میں لڑائیوں میں حصہ چکا تھا۔

اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر ایک تصویر بھی وائرل ہو رہی ہے جس میں مقتول کو ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔ قاسم سلیمانی کو چند سال قبل عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکا کے ایک ڈرون حملے میں ہلاک کردیا گیا تھا۔

اسی تناظر میں ایرانی وزارتِ خارجہ نے خدائی کے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ تہران کو اپنے مقاصد کے حصول سے نہیں روکے گا۔

ایران کی وزارت خارجہ نے اس قتل کے پیچھے اسرائیل سے منسلک عناصر کو "واضح طور پر" ذمہ دار ٹھہرایا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ نے اتوارکو ایک بیان میں کرنل خدائی کے قتل کی تصدیق کی ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ہلاک ہونے والے اہلکار کو دارالحکومت کے مشرق میں مجاہدین اسلام اسٹریٹ کی طرف جانے والی ایک سڑک پر گولی ماری گئی۔

اس نے انکشاف کیا کہ کرنل خدائی کو ان کے گھر کے "مجاہدین اسلام" اسٹریٹ پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے پانچ گولیاں مار کر قتل کیا۔

دیگر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ خدائی کا تعلق ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس سے ہے اور اس سے قبل وہ شام میں لڑائیوں میں حصہ لے چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں