ایران کا پاسداران انقلاب کے افسر کے قتل میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایرانی انٹیلی جنس نے اتوار کو دارالحکومت تہران کے مرکز میں سپاہ پاسدارانِ انقلاب کے ایک افسر کے قتل کو اسرائیلی جاسوس سیل کی کارستانی قرار دیا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق انٹیلی جنس نے اشارہ کیا کہ کرنل صیاد خدائی کے قتل اور اسرائیلی سیل کی دریافت کے درمیان تعلق ہے۔

اس کے علاوہ، میڈیا نے رپورٹ کیا کہ تہران میں قتل کیے گئے کرنل نے شام کو ہتھیاروں کی منتقلی اور ڈرون تیار کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔

درایں اثنا اسرائیلی ریڈیو نے کہا ہے کہ تہران میں ہلاک ہونے والے ایرانی کرنل نے قبرص اور یونان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔

وزارت خارجہ کا اعتراف

اسی تناظر میں ایرانی وزارتِ خارجہ نے خدائی کے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ تہران کو اپنے مقاصد کے حصول سے نہیں روکے گا۔

ایران کی وزارت خارجہ نے اس قتل کے پیچھے اسرائیل سے منسلک عناصر کو "واضح طور پر" ذمہ دار ٹھہرایا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ نے اتوارکو ایک بیان میں کرنل خدائی کے قتل کی تصدیق کی ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ہلاک ہونے والے اہلکار کو دارالحکومت کے مشرق میں مجاہدین اسلام اسٹریٹ کی طرف جانے والی ایک سڑک پر گولی ماری گئی۔

اس نے انکشاف کیا کہ کرنل خدائی کو ان کے گھر کے "مجاہدین اسلام" اسٹریٹ پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے پانچ گولیاں مار کر قتل کیا۔

دیگر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ خدائی کا تعلق ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس سے ہے اور اس سے قبل وہ شام میں لڑائیوں میں حصہ لے چکے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مقتول کی اہلیہ نے انہیں گاڑی میں مردہ پایا اور اس واقعے کی اطلاع دی۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ کرنل خدائی کے قاتلوں کا پیچھا کیا جا رہا ہے۔ جلد ہی انہیں پکڑ کرقانون کے حوالے کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں