سعودی عرب میں ’’واک پروگرام’’ کے جسمانی صحت پر اثرات سامنے آنے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں رضا کارانہ طور پر شہریوں کی پیدل چلنے کی سرگرمی ملک گیر مہم کی شکل اختیار کر گئی ہے جس نے مملکت میں شہریوں کی جسمانی صحت پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔

یہ مہم جسمانی سرگرمی کو بہتر بنانے، موٹاپے اور دائمی بیماریوں کا مقابلہ کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔ اس اقدام کے تحت مملکت میں پیدل چلنے کو آبادی کی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بنانے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

سعودی عرب میں"پیدل چلئے صحت بنائیے" رضاکارانہ پروگرام کے نگران ڈاکٹر صالح الانصاری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اس پروگرام کے تحت نومبر 2017 سے سعودی عرب کے مختلف علاقوں اور دیہاتوں کی سطح پر پیدل چلنے کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس اقدام کے تحت اب تک تقریباً 200 واکنگ گروپ کام کر رہے ہیں۔ یہ گروپ 2016 کے آخر سے بننا شروع ہوئے اور اب ان کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ان گروپوں میں سے تقریباً 20 فیصد خواتین کے گروپ ہیں۔ ان میں سے تین گروپ "الزلفی واکرز"، "الطائف واکر" اور "طیبہ النسائی" انسانی وسائل اور سماجی امور کی وزارت میں رجسٹرڈ خیراتی اداروں میں تبدیل ہونے میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔

ہر واکنگ گروپ کے ممبران کی تعداد 50 ممبروں سے لے کر 1500 سے زیادہ ممبروں ہوتی ہے۔ ان میں سے بہت سے گروپ پیدل سفر، ہائکنگ اور فطری مقامات کی سیر میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

اس اقدام کا مقصد پیدل چلنے والے گروپ قائم کرنا اور ان کی مدد کرنا، ان کی سرگرمیوں کو مربوط کرنا، ان کے درمیان تجربات کا تبادلہ، پیدل چلنے کے مختلف پروگراموں میں شرکت کرانا اور پیدل چلنے کا کلچر عام کرنا ہے۔

ہر واکنگ گروپ کے ارکان کی تعداد 50 سے 1500 کے درمیان ہوتی ہے۔ ان میں سے بہت سے گروپ پیدل سفر، ہائکنگ اور قدرتی مقامات کی سیر میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

اس اقدام کا مقصد پیدل چلنے والے گروپ قائم کرنا اور ان کی مدد کرنا، ان کی سرگرمیوں کو مربوط کرنا، ان کے درمیان تجربات کا تبادلہ، پیدل چلنے کے مختلف پروگراموں میں شرکت کرانا اور پیدل چلنے کا کلچر عام کرنا ہے۔

"سعودی واکرز" اقدام کو سعودی اولمپک کمیٹی نے 2016 کے آخر میں رضاکارانہ اقدامات کے زمرے میں نوازا جو جسمانی سرگرمیوں کو فروغ اور اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

ڈاکٹر صالح الانصاری نے تصدیق کی کہ واکنگ گروپس کے بہت سے ملازمین موٹاپے اور پرانی بیماریوں سے چھٹکارا پانے میں کامیاب ہوئے اور مجموعی طور پر انہوں نے سینکڑوں ٹن اضافی وزن کم کیا۔ ان میں سے تقریباً 200 کی کامیابی کی کہانیاں WalkStoriesKSA کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں