ایران میں ایک فوجی تحقیقی مرکز میں مشتبہ حادثہ، انجینئر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے دارالحکومت تہران کے جنوب مشرق میں پاچین کے مقام پر واقع وزارت دفاع کے زیر نگرانی ملٹری کمپلیکس میں ہونے والے پراسرار دھماکے کے نتیجے میں ایک انجینئر ہلاک اور دوسرا ملازم زخمی ہو گیا۔

ایرانی وزارت دفاع نے جمعرات کے روز ایک اعلان میں بتایا ہے کہ حادثہ اس سے وابستہ ایک ریسرچ یونٹ میں پیش آیا۔

بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مذکورہ حادثہ کل بُدھ کی شام پارچین کے علاقے میں وزارت کے ایک ریسرچ یونٹ میں پیش آیا، جس کے نتیجے میں انجینیر احسان قد بیگی جاں بحق اور ان کا ایک ساتھی زخمی ہوا۔

ایٹمی تجربات

اس علاقے میں ایک مشتبہ کمپاؤنڈ بھی شامل ہے جہاں پر ایرانی پہلے قابل عمل ایٹمی دھماکہ خیز تجربات کر چکے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ جون 2020 میں پارچین میں ملٹری کمپلیکس کے قریب ایک "صنعتی گیس ٹینک" کے دھماکہ ہوا تھا، جس کے مطابق ایرانی وزارت دفاع نے اس وقت اعلان کیا تھا کہ اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

وزارت نے اس وقت اس بات کی بھی تردید کی تھی کہ دھماکہ کسی فوجی مقام پر ہوا تھا۔ ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ دھماکہ پبلک مقام پر ہوا۔

ماضی میں تہران نے اقوام متحدہ کی جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو اس مقام کا دورہ کرنے سے بار ہا انکار کیا کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ انہوں نے سال 2005 کے دوران مشکوک سرگرمی کے ثبوت کے بغیر وہاں معائنہ کیا تھا۔

تاہم 2015 میں ایران اور بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کی تکمیل کے فوراً بعد ایجنسی کی جانب سے اس سائٹ کو جانچ پڑتال کے لیے کھولا گیا تھا۔ ایجنسی کے اس وقت کے سابق ڈائریکٹر آنجہانی یوکیا امانو نے اس جگہ کا دورہ بھی کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں