تیل اور ایران سے متعلق تبادلہ خیال کے لیے سینئر امریکی حکام کا دورہ سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرن ژان پئیر نے تصدیق کی ہے کہ امریکا کے دو سینئر حکام نے رواں ہفتے سعودی عرب کا دورہ کیا۔ دورے کا مقصد بین الاقوامی معاملات، تیل کی فراہمی اور ایران سے مذاکرات جیسے ایشوز پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے امریکی کوارڈی نیٹر بریٹ میک گرک اور دفتر خارجہ کے سینئر مشیر برائے انرجی سکیورٹی آموس ہوچسٹین نے اعلیٰ اختیاراتی سعودی حکام سے دارلحکومت ریاض میں ملاقاتیں کیں۔

پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے ژان پئیر نے بتایا کہ ’’امریکی حکام بریٹ میک گرک اور آموس ہوچسٹین نے خطے کو غیر مستحکم کرنے والے ایرانی اقدامات سمیت کئی دوسرے اہم معاملات پر تبادلہ خیال کے لئے سعودی عرب کا دورہ کیا ہے۔‘‘ اس دورے کے دوران ہونے والی ملاقاتوں میں امریکی وفد نے تیل کی سپلائی میں استحکام کو یقینی بنانے سمیت دوسرے اہم علاقائی امور پر سعودی حکام سے تبادلہ خیال کیا۔‘‘

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کا مزید کہنا تھا ’’کہ مملکت کا دورہ کرنے والے امریکی حکام انرجی سکیورٹی سے متعلق امور کا جائزہ بھی لیں گے‘‘ کیونکہ ژان پئیر کے بہ قول صرف تیل کی پیدوار میں اضافے کا مطالبہ مسائل کا حل نہیں۔ ’’امریکا ایشو سے متعلق پایا جانے والا پیچیدہ نوعیت کا ابہام اور سعودی عرب سے ہمہ جہت مذاکرات یقینی بنانے کے خواہاں ہیں۔‘‘

ژان پئیر نے بتایا کہ اوپیک پلس اس ضمن میں اپنے فیصلے آپ کرے گا کیونکہ ان کا تعلق تیل کی پیداوار اور برآمدات کے حجم سے ہے۔ ’’تیل کی عالمی منڈی کے حوالے سے امریکا، سعودی عرب سمیت تیل پیدا کرنے والے دوسرے ملکوں سے مشاورت کر رہا ہے۔‘‘

یاد رہے کہ سعودی عرب تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور امریکا تسلسل کے ساتھ ریاض پو تیل کی پیداوار بڑھانے کا مطالبہ کر رہا ہے تاکہ روس کے یوکرین پر حملے کے تناظر میں عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں