ایران

آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی پاسداران انقلاب کی مشکوک سرگرمیاں بے نقاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

خلائی سیٹلائٹس نے عالمی سطح پر بحری سفر کے حوالے سے اہمیت کی حامل ’آبنائے ہرمز‘ کے قریب ایرانی پاسداران انقلاب کی مشکوک سرگرمیوں سے پردہ اٹھایا ہے۔

عالمی توانائی کی اہم ترین گذر گاہ کہلانے والی آبنائے ہرمز کے قریب پاسداران انقلاب کی سرگرمیاں وہاں پر ایران کی موجودگی کو یقینی بنانے کی کوششوں کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔ سیٹلائٹس سے حاصل کی گئی تصاویر سے پتا چلتا ہے کہ ایران نے ’شہید مہدوی‘ کے نام سے ایک نیا اور بڑا بحری جہاز بنانا شروع کیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ نے جمعہ کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ہائی ریزولیوشن امیج سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاز "شہید مہدوی" ابھی بھی شپ یارڈ میں ہے اور اس کے بالکل قریب ڈیزل سے چلنے والی ’طراز کیلو‘ حملہ آور آبدوز جامع مرمت کے عمل سے گزر رہی ہے۔

جیسے ہی "شہید مہدوی" جہاز کی تصویر انٹرنیٹ پر شائع ہوئی تو پاسداران انقلاب کے قریب سمجھی جانے والی ایرانی ’فارس نیوز ایجنسی‘ نے ایک خبر میں کہا کہ یہ [جہاز] ایک"موبائل میرین سٹی" ہے جو "ایرانی تجارتی لائنوں کی حفاظت کی ضمانت کے ساتھ ساتھ ایرانی ملاحوں اور سمندروں میں ماہی گیروں کی حفاظت کرے گا۔"

تیرتا غیر معمولی اڈا

اس اقدام کا مقصد ایک بڑا بحری اڈہ فراہم کرنا ہے، جہاں سے پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والی چھوٹی اسپیڈ بوٹس کو چلایا جا سکے۔ ماضی میں یہ کشتیاں سمندری حدود کی خلاف ورزیوں اور حملوں کا باعث بنتی رہی ہیں۔

یہ جہاز ان کشتیوں اور امریکی بحری جہازوں یا دیگر اتحادی افواج کے درمیان کسی بھی تصادم کی سہولت بھی فراہم کر سکتا ہے۔

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے محقق، فرزین ندیمی نے کہا کہ "شہید مہدوی" ایرانی مال بردار جہاز "سارفین" کی نئی شکل معلوم معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کا ڈھانچہ ایسا ہی ہے۔

ورجینیا میں قائم سینٹر فار نیول اینالیٹکس میں ایران کے ماہر مائیکل کونیل نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ شہید مہدوی ایک ’فارورڈ اسٹیجنگ بیس ہوگا‘ جو کہ امریکی جہاز "پولر" کی طرح کام کرے گا۔

اس کے برعکس امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ترجمان ٹموتھی ہاکنز نے اس جہاز پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ "ہم انٹیلی جنس سے متعلق معاملات پر بات کرنے میں احتیاط سے کام لیتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں