اسرائیل شیرین ابو عاقلہ کے قتل کی تحقیقات جلد مکمل کرے: انٹونی بلینکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ کے وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے اپنے اسرائیلی ہم منصب سے فلسطینی نژاد امریکی صحافیہ شیریں ابو عاقلہ کی اسرائیلی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاکت سے متعلق بات چیت کی ہے۔

دونوں وزراء خارجہ کے درمیان یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب مقبوضہ بیت المقدس میں انتہا پسند یہودی آبادکاروں کے فلیگ مارچ کی وجہ سے صورت حال کشیدہ ہے۔

امریکہ کے سرکردہ سفارت کار نے اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لاپیڈ کو بتایا کہ ان کا ملک چاہتا ہے کہ شیریں ابو عاقلہ کے فرائض منصبی کی ادائیگی کے دوران قتل سے متعلق تحقیقات اسرائیل جلد مکمل کرے۔

الجزیرہ کی عربی سروس کی تجربہ کارفلسطینی نژاد امریکی نامہ نگارابوعاقلہ کو11 مئی کو مقبوضہ مغربی کنارے کے قصبے جنین میں اسرائیلی فوجیوں نے چھاپا مار کارروائی کے دوران میں سر میں گولی ماردی تھی۔وہ اس وقت اسرائیلی فوج کی فلسطینیوں کے خلاف کارروائی کی کوریج کررہی تھیں۔

امریکی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے اپنے طور پرجنین میں رونما ہونے والے واقعات کے تانے بانے بُنے ہیں اور کہا ہے کہ ان سے عینی شاہدین کے بیان کی تائید ہوتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ابوعاقلہ کو اسرائیلی فوجیوں نے گولی ماری تھی حالانکہ انھوں نے ہیلمٹ اور پریس والی واسکٹ پہن رکھی تھی جس سے واضح طور پر ان کی شناخت میڈیا کی شخصیت کے طور پرہو رہی تھی۔

فلیگ ڈے کشیدگی

ادھر اختتام ہفتہ قوم پرست یہودیوں نے یروشلیم پر قبضے کی سالگرہ کی یاد میں ایک فلیگ مارچ کی کال دے رکھی ہے جو فلسطینیوں کے اکثریتی علاقوں سے گذرتا ہوا مسجد اقصیٰ جانے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ وہاں اپنی تلمودی عبادات ادا کر سکیں۔ اس مارچ کی وجہ سے بھی اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تصادم ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس ایسے ہی ایک مارچ کے موقع پر حماس اور اسرائیل کے درمیان گیارہ روزہ جنگ شروع ہوئی، جسے بعد ازاں مصر، اردن اور امریکہ کی ثالثی کے بعد ختم کیا جا سکا۔

امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان نیڈ پرائس نے بتایا کہ ’’اعلی امریکی سفارت کار نے اسرائیلی وزیر خارجہ اور متبادل وزیر اعظم یائر لاپیڈ سے گفتگو میں اس بات کی ضرورت پر زور دیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی پرسکون رہیں۔‘‘

دونوں رہنماؤں نے عالمی چیلنجز بشمول ایران اور اس کی ملیشیاؤں کا مقابلہ کرنے سے متعلق مشترکہ کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

امریکی وزیر خارجہ نے واشنگٹن کی جانب سے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے لیے اپنی حمایت کا ایک مرتبہ پھر اعادہ کیا ہے۔

امریکہ اور ایران 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے سے متعلق ہونے والے مذاکرات کے ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے آگے پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے علاحدگی کا اعلان کیا تھا۔

اس کے بعد سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی سی صورت حال چلی آ رہی ہے جس میں ایران نے امریکہ پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو متوقع جوہری معاہدے کو سپوتاژ کرنے کے لیے ساتھ دے رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں