ایران کے حساس ’پارچین‘ فوجی مرکز پر حملہ ڈرون سے کیا گیا: امریکی اہلکار کے انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی اخبار’نیویارک ٹائمز‘ نے ایران کے دارالحکومت تہران کے قریب واقع ایک فوجی مرکز پر دو روز قبل ہونے والے حملے اور اس میں ایک انجینیر کی ہلاکت کے واقعے کی مزید تفصیلات شائع کی ہیں۔

امریکی اخبار نے تین ایرانیوں اور ایران کے پارچین فوجی مرکز پر حملے کے حوالے سے بتایا ہے کہ پارچین ملٹری سینٹر پر ڈرون سے حملہ کیا گیا تھا۔ ایران کا پارچین فوجی مرکز ایک ریسرچ سینٹر ہے جس میں تہران جوہری میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کی تیاری پر کام کر رہا ہے۔

بدھ کی شام ڈرون نے دارالحکومت سے 37 میل جنوب مشرق میں انتہائی حساس کمپلیکس پر حملہ کیا۔ ایرانی ذرائع کے مطابق اس حملے کے بارے میں حکام کو پبلک میں بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ ایک خود کش ڈرون تھا جو ایرانی وزارت دفاع کے زیر استعمال عمارت میں گر کرپھٹ گیا جس سے وزارت دفاع میں کام کرنے والا ایک نوجوان انجینیر ہلاک اور دوسرا شخص زخمی ہوگیا تھا۔

نامعلوم حملہ آور

ابھی تک کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ ایران میں ہونے والی کسی بھی تخریبی کارروائی کی ذمہ داری عموما اسرائیل پر عاید کر دی جاتی ہے۔

اسرائیلی حکام نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے تاہم ایک امریکی اہلکار نے تصدیق کی کہ ڈرون نے پارچین پر حملہ کیا ہے لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے پیچھے کون ہے اور نہ ہی کوئی دوسری تفصیلات فراہم کی ہیں۔

حملے سے واقف ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ کو ڈرون حملہ ایران کے اندر سے کیا گیا تھا۔ یہ حملہ پارچین سہولت کے قریب سے کیا گیا جہاں استعمال ہونے والے طیاروں کی پرواز کی حد مختصرہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ملٹری کمپلیکس ایران کی سرحد سے بہت دور ہے۔

پارچین میں ڈرون تحقیقی مرکز کو نشانہ بنانا اسرائیل کی ڈرون کے لیے ایران کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کا حصہ ہوسکتا ہے۔

ڈرون کی تیاری اور ذخیرہ کرنے کا مرکزی کارخانہ

آپریشن سے واقف ایک سینیر انٹیلی جنس اہلکار کے مطابق فروری کے اوائل میں اسرائیل نے کرمانشاہ شہر کے قریب دھماکہ خیز مواد پر مشتمل چھ ڈرونز سے فوجی ڈرون بنانے اور ذخیرہ کرنے والی مرکزی فیکٹری پرحملہ کیا گیا۔ اس اسرائیلی حملے میں درجنوں ایرانی ڈرون تباہ ہوئے۔

دوسری طرف ایران نے شمالی عراق میں ایک رہائشی کمپلیکس پر بیلسٹک میزائل فائر کر کے اسرائیل کو اس کا جواب دیا۔ ایران کا دعویٰ تھا کہ اس رہائشی عمارت میں اسرائیلی ایجنٹ ایران کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کر رہےتھے۔

حملے سے واقف ایرانی ذرائع نے بتایا کہ بدھ کو ڈرون حملہ ایران کے اندر سے پارچین فوجی اڈے کے قریب سے کیا گیا تھا، جہاں حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون کی پرواز کی حد مختصر ہے اور پارچین ایران کی سرحدوں سے بہت دور ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اسرائیل نے ایران کے اندر موجود عناصر کو حملوں کے لیے استعمال کیا ہو۔

چند روز قبل یہ اعلان کیا گیا تھا کہ پاسداران انقلاب کے ایک کرنل کو گذشتہ اتوار کو تہران میں گولی مارکرہلاک کر دیا گیا تھا۔ایک انٹیلی جنس اہلکار کے مطابق اسرائیل نے امریکا کو مطلع کیا تھا کہ اس قتل کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے۔

اہلکار نے کہا کہ اسرائیلیوں کا مقصد ایران کو یہ انتباہ کرنا ہے کہ وہ بیرون ملک اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنانا بند کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں