’حملہ آورنے مارا پیٹا اور مجھے گھسیٹ کر مردانہ وارڈ میں لے گیا‘

عسیر کے ایک اسپتال میں تشدد کا شکار نرس کی العربیہ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے عسیر ریجن میں ایک اسپتال میں خدمات انجام دینے والی نرس پر تشدد کے واقعے کے بعد متاثرہ نرس نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو واقعے کی مزید تفصیلات بیان کی ہیں۔

دوسری طرف سعودی عرب کی پولیس نے اسپتال میں نرس پر تشدد میں ملوث سعودی شہری کو پراسیکیوٹر جنرل کے حکم پر گرفتار کر لیا ہے۔

نرس جس کا نام سیکیورٹی وجوہات پر ظاہر نہیں کیا گیا نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ "جمعرات کو میں ٹرائیج ایریا میں کام کر رہی تھی۔ وہاں پر مریضوں کے قد اور وزن کا جائزہ لیا جاتا ہے اور مریضوں کے شعبہ جات میں داخلے کےلیے ان کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔ جب میں نے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں مردوں کا ہجوم دیکھا تو میں نے فیصلہ کیا کہ اپنی ساتھی نرسوں کی مدد کروں۔ میں ابھی ادھر ہی تھی کہ مجھے ایک مریض کی فائل ملی جو معائنے کا انتظار کر رہا تھا۔ اس لیے میں نے اس کی فائل تیار کرنے لگی تو اچانک ایک شخص نے مجھے مارنا شروع کردیا۔ میں یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئی۔ اس نے مجھے کندے پرضربیں لگائیں۔ حملہ آور کی عمر انیس سال کے لگ بھگ تھی جب کہ اس کے ساتھ آنے والا مریض زیادہ تشویشناک حالت میں نہیں تھا۔ بس اسے تھوڑا بخار تھا۔

اس نے بتایا کہ میں مریض کے رویے اور میرے ساتھ ہونے والے تشدد پر حیران رہ گئی تھی۔ وہ مجھے گھسیٹ کر ٹرائیج روم سے مردانہ وارڈ میں لے گیا۔ یہ کیفیت کوئی بھی ہیلتھ ورکر قبول نہیں کرسکتا۔ تشدد کرنے والا شخص اجنبی تھا۔ میں اسے جانتی تھی اور نہ ہی اس سے کوئی رابطہ تھا۔ میں نے اسے یا اس کے ساتھ آنے والے مریض کو کوئی خدمت پیش نہیں کی۔ اس کے ساتھ آنے والے مریض کے ہاتھ میں موجود محلول دوسری نرس کے پاس رکھ دیا تھا۔

غیر متوقع رویہ

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے کبھی بھی ایسی صورتحال کے سامنے آنے کی توقع نہیں کی تھی۔ جو کچھ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہےوہ ناقابل یقین ہے۔ صحت کے عملے کا کام اپنے عظیم انسانی کردار اور ہجوم کے باوجود مریضوں کی مدد کرنا ہے۔ نرسیں بوجھ اٹھاتی ہیں اور بعض اوقات مریضوں کی بدسلوکی کے باوجود مریضوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتی ہیں۔ ہمیں مریضوں کے ساتھ حسن سلوک اور صبر سے پیش آنے کی تربیت دی گئی ہے اور تمام حالات کو مریض کے فائدے اور اس کے علاج پرہی توجہ دی جاتی ہے۔

مجھے امید ہے کہ مجھ پرحملہ کرنے والے شخص کو سزا ملے گی۔ یہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک مثال بنے گا جو ہیلتھ ورکروں پر حملے کرتے ہیں۔ ان کارکنوں پر جواپنا وقت مریضوں کی خدمت کے لیے انسانیت کے پیغام میں صرف کرتے ہیں۔

ملزم گرفتار

سعودی عرب کے عسیر ریجن میں پولیس نے ہسپتال میں نرس پر تشدد میں ملوث سعودی شہری کو پراسیکیوٹر جنرل کے حکم پر گرفتار کر لیا ہے۔

وائرل وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شہری عسیر کے المجاردہ ہسپتال میں سعودی نرس پر تشدد کر رہا ہے جبکہ اس کی ساتھی نرس حملہ آور کو نرس پر تشدد سے باز رکھنے کی کوشش میں ہے۔ متاثرہ نرس ہسپتال میں فنگر پرنٹس کی جانچ اور ریکارڈ فائلوں کی تقسیم کے سیکشن میں تعینات ہے۔

اسپتال ذرائع نے بتایا کہ ’واقعہ اس وقت پیش آیا جب نرس کو ایمرجنسی وارڈ میں بلا کر ڈرپ ہٹانے کے لیے کہا گیا لیکن نرس فوراً ایمرجنسی وارڈ نہیں پہنچ سکی جس پر مقامی شہری نے طیش میں آ کر نرس کو تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

ذرائع کا کہنا تھا ’ہسپتال میں نرس کا ریکارڈ اچھا ہے اور وہ ایک برس سے کام کر رہی ہے۔ پولیس نے تشدد کی اطلاع ملتے ہی حملہ آور کو گرفتار کر لیا۔‘

سوشل میڈیا پر اس واقعہ پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ خالد الراشد نامی ایک صارف نے نرس پر تشدد کرنے والے شخص کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ سعودی وزارت صحت خبردار کر چکی ہے کہ صحت کے عملے کے خلاف بدزبانی یا جسمانی تشدد پر 10 برس تک قید یا 10 لاکھ ریال تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں