نئے ٹیلنٹ کے دریافت کے لیے تہوار اہم ہیں: سعودی ڈائریکٹر خالد فہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں فلمی دنیا کی ایک نامور شخصیت ہدایت کار خالد فہد نے فلم "دی ویلی روڈ" کے ذریعے ایک انوکھا تجربہ پیش کیا ہے جسے کنگ عبدالعزیز سینٹر فار ورلڈ کلچر (اثرا) نےشروع کیا گیا تھا۔ یہ فلم ’کان‘ فلم فیسٹیول 2021 میں نمائش کےلیے پیش کی گئی تھی۔

ہدایتکار فہد نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ فلم "ویلی روڈ" کو ’اثرا‘ سینٹر نے پروڈیوس کیا ہے اور یہ فلم ایک نئی قسم کی کہانی پیش کرتی ہے۔ ماضی میں اس طرح کی فلمی کہانی سعودی فلم انڈسٹری میں پیش نہیں کی گئی۔ اس فلم میں تخیل اور مہم جوئی پر مبنی ڈرامائی انداز میں سماجی صورتحال کی عکاسی کی گئی ہے۔

ہدایت کاری کی دنیا میں اپنے کیریئر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ میں نے بطور مصنف اور ہدایت کار بہت سی فلموں میں حصہ لیا۔ ہدایت کاری کے شعبے میں اپنا پہلا کام 2012 میں کینیڈا سے دور طالب علمی میں شروع کیا۔ میں نے کورسز کے ذریعے سیکھنا جاری رکھا اور فلم انڈسٹری کے بارے میں گہرا مطالعہ کیا۔ فلمی پروگراموں اور تہواروں میں کام کیا اور 2017 سے مختصر فلموں کی صنعت کا رخ کیا۔ اس کے بعد 21 سے زیادہ مقامی اور بین الاقوامی فیسٹیولز میں حصہ لیا اور فلم سازی اور اسکرین رائٹنگ کے لیے ایوارڈز جیتے۔

فہد نے بتایا کہ انہوں نے سعودی سنیما کے لیے بہت سی فلمیں پیش کیں، جن میں: "دی انوسٹر"، "دی مارننگ سگریٹ" اور "دی لٹل برڈ" شامل ہیں۔

ہدایت کاری کے میدان میں ان کے لیے سب سے اہم کہانیوں کے بارے میں انہوں نے وضاحت کی کہ وہ بیک وقت ناظرین کے لیے غیر معمولی اور دلچسپ کہانیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ میر ا خیال ہے کہ مملکت میں ہدایت کاری کے تجربات بہترین ہیں اور تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ ہر سال انڈسٹری پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ کام کی پیشکش کرکے سعودی ہدایت کاروں اور اداکاروں کی حمایت میں سعودی فلمی میلوں کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیسٹیول نئے ٹیلنٹ کے دریافت کرنے، فلم میکرز کے ساتھ رابطے اور ایک دوسرے کو جاننے کا اہم موقع ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیسٹیول نئی نسلوں کو مواقع فراہم کرتے ہیں۔ بین الاقوامی فیسٹیولز میں سعودی فلموں اور سعودی اداکاروں کی شرکت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ مقامی مواد کی فراہمی اور فلم سیکٹر اور پروڈکشن کمپنیوں کے ماہرین کے ساتھ شراکت داری کرنے سے فلمی شعبے میں سیکھنے کے مزید مواقع ملتے ہیں۔

انہوں نے اپنی بات کے اختتام پر کہا کہ وہ فلم سازوں اور آنے والی نسلوں میں سنیما سے متعلق آگاہی پھیلانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ فلم ’طریق الوادی‘ نے فیچر فلموں سے مختلف طریقہ اختیار کیا اور اسے مملکت کے وسط اور جنوب میں 10 سے زیادہ مقامات پر فلمایا گیا۔ اس فلم کی شوٹنگ کے لیے جنوب میں تنومہ کے علاقے میں ایک پورا گاؤں بنایا گیا تھا۔ یہ گاؤں مملکت کے اس علاقے کے لوگوں کے لیے ایک مستقل سنگ میل رہے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں