سعودی عرب میں رینگنے والے سمندری جانداروں کی80 ملین سال پرانی باقیات دریافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے مغرب میں رینگنے والے سمندری جانداروں کی لاکھوں سال قبل کی باقیات کی دریافت نے ماہرین آثار قدیمہ کو حیران کردیا۔

بحیرہ احمر ڈویلپمنٹ کمپنی کےاعلان کے بعد منگل کے روز سعودی جیولوجیکل سروے کی شراکت سے مملکت میں سب سے بڑا سروے پروجیکٹ کے دوران یہ باقیات ملیں۔ اس منصوبے کے تحت کی جانے والی کھدائی کے دوران سمندری چھپکلی کی ہڈیاں دریافت ہوئیں۔ ماہرین کے خیال میں یہ ہڈیاں 80 ملین سال قبل موجود جانداروں کی ہیں۔ اس منصوبے کے دوران کھدائی کے پہلے 10 دنوں میں یہ پیش رفت سامنے آئی۔

ریڈ سی ڈیولپمنٹ کمپنی کے ’سی ای او‘ جان پاگانو نے کہا کہ ایڈونچر کی روح ہمیشہ دریافت کے جوہر سے وابستہ رہی ہے۔

لاکھوں سال پہلے کی زندگی

انہوں نے مزید کہا کہ یہ جگہ پہلے سے ہی سعودی عرب میں زیر آب آثار قدیمہ کی کھدائی کا مرکز رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ارضیاتی سروسے پتا چلتا ہے کہ خشکی پر درفیات ہونے والے یہ فوسلز لاکھوں سال قبل زیر آب تھے۔ یہ دریافت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اس خطے میں زندگی لاکھوں سال پہلے بھی موجود تھی۔

پاگانو نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ یہ شراکت داری کمپنی کے پختہ عزم کی توسیع ہے جو کہ ایک رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کمپنی ہے۔ یہ کمپنی ان موجودہ قدرتی خزانوں کو تلاش کرنے، ان کی حفاظت کرنے اور انہیں انتہائی مناسب طریقے سے دنیا کو دکھانے کے لیے کوشاں ہے۔

قدیم حیاتیات کے علم کی اہمیت

انہوں نے مملکت سعودی عرب کی "پیالیونٹولوجی" میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا حوالہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ نئے کام ساحل سمندر کے قریب دفن قدیم ورثے کی دریافت پر کام کو فروغ دینے کی ایک اضافی وجہ ہوں گے۔

قابل ذکر ہے کہ بحیرہ احمر کی ترقیاتی کمپنی منفرد ارضیاتی اہمیت کے حامل علاقوں کی نشاندہی کرنے کے لیے اتھارٹی کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہے جس سے جزیرہ نما عرب کی بھرپور قدرتی تاریخ کو دریافت کرنے میں بحیرہ احمر کی پائیدارمنزل کی طرف سے پیش کردہ سیاحتی تجربات میں اضافہ کرے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں