’بھارتی فوٹو گرافر نے 115 سال قبل حرمین شریفین میں کیا دیکھا‘

مسجد حرام کی نایاب تصاویر اور 115 سال قبل حج کا منظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اس ہفتے شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری نے ایک نئی کتاب جاری کی ہے جس میں 115 سال قبل حرمین شریفین کے حالات اور ماحول کو تصاویر کی شکل میں دستاویز کیا گیا ہے۔ ایک بھارتی مسلمان احمد مرزا نے قریبا سوا صدی پیشتر حج کے موقعے پر حرمین شریفین کی تصاویر لیں جنہیں اب ایک کتاب کی شکل میں شایع کیا گیا ہے۔

کتاب کو "مناظر حرمین شریفین اور حج کے مظاہر الحاج احمد مرزا کے کیمرے کی آنکھ سے" کا عنوان دیا گیا ہے۔ یہ کتاب ممتاز عالم دین ڈاکٹر صاحب اعظمی ندوی نے ترتیب دی اور اس کا پہلا ایڈیشن 1443ھ بہ مطابق2022ء کو شایع کیاگیا ہے۔

تفصیل کےمطابق کتاب 240 صفحات پر مشتمل ہے جس میں حرمین شریفین کے نقشوں، خاکوں اور قدیم ڈرائنگ سے آغاز کیا گیا ہے۔ کتاب میں ہندوستانی مصور کی حرمین شریفین اور مشاعر مقدسہ کی بنائی گئی فوٹو گرافی شامل ہے۔

4 ابواب

تقریبا سوا صدی قبل کے دور میں حرمین شریفین کی یادگاروں پر مشتمل اس کتاب کو چار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔

کتاب کا پہلا باب’ جدید ھندی طباعتی ثقافت میں حرمین شریفین‘ کےعنوان سے ترتیب دیا گیا ہے جس میں فوٹو گرافراحمد مرزا کی تیار کردہ تصاویر شامل ہیں۔

اسی طرح دباس البم کے ذریعے احمد مرزا کی حرمین شریفین کی تصاویر کے مطالعے کا ترجمہ پیش کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی برٹش لائبریری البم کی مدد سے احمد مرزا کی حرمین شریفین کی تصاویر کی وضاحت بھی شامل ہے۔

کتاب کا ایک حصہ الحاج احمد مرزا کی تصاویر کے مجموعے کے سائنسی بنیاد پر مطالعے، تجزیے اور علمی نگرانی سے بھی متعلق ہے جنہیں 1325ھ بہ مطابق 1907ء میں حج پر آنے والا پہلا پیشہ ور ہندوستانی فوٹوگرافر سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے مکہ معظمہ میں اپنے قیام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حرم مکی شریف کی تصاویر حاصل کیں۔

ہندوستان واپسی کے بعد انہوں نے ان تصاویر کو (دہلی میں) اپنی فوٹوگرافی لیب میں پرنٹ کیا۔ انہوں نے وہ تصاویر اور کارڈ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں آنے والے حجاج کو فروخت کیے۔

محقق اعظمی ندوی ہندوستان میں مغلوں پراپنے ڈاکٹریٹ کے مقالے کے آغاز سے ہی مرزا کے تصویری مجموعے سے کیا۔ تلاش کے دوران انہیں تصاویر اور کارڈز کے بہت سے پیچ اور البم ملے جو حاجی احمد مرزا کے اسٹوڈیو سے چھاپے اور شائع کیے گئے تھے۔انہوں نے ایک صدی قبل دہلی کے علاقے میں ایک فوٹو اسٹوڈیو کھولا۔

محقق نے مرزا کی تصاویر کے حوالے سے کئی حوالوں کا جائزہ لیا، جن میں سے کچھ برٹش لائبریری، بدر عیسیٰ الحاج کی کتاب "ماضی کی تصویریں" اور ولیم ویسی کی کتاب "دی کنگڈم آف سعودی عرب: دی ارلی فوٹوگرافرز" میں منتقل کی گئی ہیں۔

اعلیٰ معیار

تصاویر تیار کرنے کے خواہشمند تھے اور انہیں اردو میں وضاحتوں اور تبصروں سے سجایا تھا۔ان تصاویر کو حج کی تاریخ کے ایک اہم مرحلے، مکہ معظمہ میں فریضہ حج کی ادائی، مشاعر مقدسہ اور تاریخ مکہ مکرمہ کی جدید تاریخ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

احمد مرزا کی لی گئی تصاویر میں حرم مکی شریف کے اندر موجود حجاج کرام کو دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مسجد نبوی، مسجد حرام، جبل عرفات، باب العنبریہ، مسجد الخیف، منیٰ، المعلاۃ اور جنۃ البقیع قبرستان، مسجد قبا اور حجاج کی زیارت کے دیگر مقامات کوکیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں