اسرائیلی فوج کی طویل فاصلے پر فضائی حملوں کی مشقیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی فوج نے کل بدھ کے روز درجنوں جنگی طیاروں کی "طویل فاصلے تک پروازیں کرنے اور بڑے پیمانے پر حملوں"کی مشقوں میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ یہ مشقیں ایک ایسے وقت میں شروع ہوئی ہیں جب اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے لیزر پر مبنی دفاعی نظام کی تیاری کا اعلان کیا ہے جو آئندہ برس فوجی سروس میں شامل کیا جائے گا۔

فوج کے ترجمان اویچائی ادرعی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ٹویٹس کی ایک سیریز میں کہا کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے ’فائر رتھ‘ مشقوں کے فریم ورک میں شروع کی گئی مشق پورے ایک مہینے تک جاری رہے گی۔ اس دوران فضائیہ کو طویل فاصلے پر موجود اہداف کو نشانہ بنانے حملوں کے دوران فضا سے ایندھن بھرنے کی تربیت دی جائے گی۔

"ٹائمز آف اسرائیل" اخبار نے اطلاع دی ہے کہ مشقیں "آگ کا رتھ‘‘ کی اہم فوجی مشقوں کے حصے کے طور پر کی گئی ہیں جو ایران میں اس کی جوہری تنصیبات سمیت بڑے پیمانے پر حملوں کے تناظر میں جاری ہیں۔

"آگ کے رتھ" مشقیں اسرائیلی فوج کی تقریباً تمام شاخوں پر مشتمل ہیں۔ مشقوں میں اسرائیل کی شمالی سرحد پر لڑائی کی تربیت پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

اسرائیل کے عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے چینل 13 نے رپورٹ میں بتایا کہ امریکی فضائیہ کو مشقوں کے دوران ایندھن بھرنے کے لیے طیاروں کے ساتھ ایک تکمیلی قوت کے طور پر کام کرنا ہے۔

لیکن اسرائیلی فوج نے ان رپورٹس کی تصدیق نہیں کی۔ جب کہ امریکی وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکا اسرائیل کی ان مشقوں میں شامل نہیں۔

"ٹائمز آف اسرائیل" کے مطابق فضائی حملوں کے منصوبوں کے کچھ پہلو جو ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہیں وہ کچھ ہی عرصے میں تیار ہو سکتے ہیں جب کہ دیگر منصوبوں کو قابل عمل ہونے میں ایک سال سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے۔

ان مشقوں میں زمین کی گہرائی میں دبی ہوئی ایرانی تنصیبات پر حملہ کرنے کے طریقے تلاش کرنے کے علاوہ فوج کو ایسے کسی بھی آپریشن میں خصوصی جنگی سازوسامان اور حکمت عملی کی ضرورت ہوگی۔ اسرائیلی فوج کو اس طرح کے حملے کو انجام دینے کے لیے ایران کے بڑھتے ہوئے جدید ترین فضائی دفاع کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

گزشتہ سال کے آغاز میں قابض اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایویو کوچاوی نے اعلان کیا کہ انہوں نے فوج کو ایران کے خلاف نئے جارحانہ منصوبے تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

آئرن بیم سسٹم

صہیونی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے کہا ہے کہ لیزر پرمبنی فضائی دفاعی نظام، جسے اسرائیل دشمن کے راکٹوں اور ڈرونز کو بے اثر کرنے کے لیے اگلے سال سے نصب کرنے کی امید رکھتا ہے،کی قیمت صرف 2 ڈالر فی ’روک‘ ہوگی۔

اسرائیل اس وقت مار گرانے کے دفاعی نظاموں پرانحصار کرتا ہے جو اس طرح کے میزائلوں اور راکٹوں کا سراغ لگانے کے لیے ہزاروں سے لاکھوں ڈالر کی لاگت کے حامل روک اور مارگرانے والے میزائل داغتے ہیں۔

لیکن آئرن بیم سسٹم فضائی خطرات کو سُپرہیٹ اور غیر فعال کرنے کے لیے لیزر کا استعمال کرتا ہے۔اس کا ایک پروٹو ٹائپ گذشتہ سال منظر عام پر آیا تھا۔

بینیٹ نے پیشین گوئی کی ہے کہ یہ 2023ء کے اوائل تک فعال ہوجائے گا۔انھوں نے اس نظام کو تیار کرنے والی سرکاری فرم رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز کے دورے کے موقع پرکہا کہ ’’یہ کھیل کا پانسہ پلٹنے والا نظام ہے، نہ صرف اس لیے کہ ہم دشمن فوج پرحملہ کررہے ہوں گے بلکہ اس لیے بھی کہ اس کے ذریعے ہم اسے دیوالیہ کرنے والے ہیں‘‘۔

فلسطینی مزاحمتی تنظیموں اور لبنانی حزب اللہ نے ماضی کی جنگوں میں اسرائیل پرہزاروں راکٹ اور مارٹر بم داغے تھے۔اسرائیل کے میزائل دفاعی نظاموں نے حالیہ برسوں میں ان ڈرونز کو بھی روکا ہے جن کے بارے میں اسے شُبہ ہے کہ انھیں ایرانی حمایت یافتہ جنگجوؤں نے اس کی سرحدوں کے قریب داغا تھا۔

بینیٹ نے اپنے دفترکی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں کہا کہ ’’آج تک ہر راکٹ کو روکنے کے لیے ہمیں بہت زیادہ رقم خرچ کرنا پڑتی تھی۔ آج وہ (دشمن) ایک راکٹ میں ہزاروں ڈالرکی سرمایہ کاری کرسکتے ہیں اور ہم اس راکٹ کو روکنے کے لیے بجلی پرصرف 2 ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں