اسرائیل روسی توانائی کی عدم دستیابی فلسطینی وسائل سے پوری کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی گیس کی عدم دستیابی سے پیدا خلاء پر کرنے کے لیے اسرائیل نے تیاریاں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے چوتھے کنویں کی زیر سمندر کام شروع کر دیا ہے۔ اس بارے میں اس کی توانائی کی وزیر کیرن ایل ہارر نے یروشلم پوسٹ میں اظہار خیال کیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے اس اقدام کو فلسطینی وسائل کی چوری قرار دیا ہے۔

یہ اسرائیلی فیصلہ یورپ میں بڑھتے توانائی کے بحران سے نپٹنے کے لیے کیا گیا ہے۔ ایل ہارر نے یہ فیصلہ اس کے باوجود بیان کیا ہے جس کے تحت اسرائیل نے 2022 میں تیل وگیس کی ہر نوعیت کی تلاش روکنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کی طرف سے یورپ کی مدد کرنے کا پروگرام کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ عالمی بحران کا سامنا کرنے کے لیے کردار دراصل اسرائیل کے لیے موقع ہے کہ وہ توانائی کے وسائل کو وسیع کرے۔ اس طرح وہ توانائی کی برآمدات میں یورپ کی مدد کرے گا۔

ایل ہارر نے یہ بات زور دے کر کہی کہ وہ اپنے ملک کی توانائی کی سلامتی ہر صورت میں اولیت پر رکھے گی۔ ان کی کوشش ہو گی کہ توانائی کے وسائل میں مزید تنوع لایا جائے۔

فلسطینی ہمیشہ اس امر پر زور دیتے رہے ہیں کہ اسرائیل دراصل فلسطین کے وسائل کا استحصال کرتا رہا ہے۔ بہت سے وسائل فلسطین یا لبنان کی ملکیت ہیں جب کہ دیگر کی ملکیت کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔

فلسطینی اتھارٹی نے گزشتہ برس ان وسائل کی اسرائیلی تلاش کو چوری قرار دیا تھا۔ اس کے باوجود غزہ کے ساحلوں پر یہ چوری جاری ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے رام اللہ میں مقیم ترجمان دمتری دلیانی نے آئل پرائس ڈاٹ کام کو بتایا ہے کہ اسرائیل کا اتھارٹی لائسنس غزہ کے تیل کے ذخائر ہتھیانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں