معمولی کیمرے سےفوٹوگرافی شروع کرنے والے عالمی شہرت یافتہ مصور سے ملیے

’سعودی فوٹو گرافر طارق المطلق کے فوٹو بڑے عالمی اخبارات کی زینت بن چکے ہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی فوٹوگرافرطارق المطلق کی لی گئی تصاویرغیرملکی ویب سائٹس پر وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کی تصاویر زیادہ آرٹ پینٹنگز کی طرح ہیں جو مملکت میں ماحولیاتی تنوع کو ظاہر کرتی ہیں۔

المطلق نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی کیمرے سے محبت اور تصویریں دستاویز کرنے کا شوق کم عمری میں "کوڈک" انسٹنٹ کیمرہ کے ذریعے شروع ہوا اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو بڑھانا جاری رکھا۔ فوٹوگرافی کے شعبے میں "مکشٹ فورمز" پر تصویریں پوسٹ ہونے کے بعد انہیں مملکت میں مزید قدرت کے حسن کو دیکھنے اور انہیں پوری دنیا کو دکھانے کا حوصلہ ملا۔

جہاں تک غیر ملکی ویب سائٹس کی جانب سے ان کی تصاویر شائع کرنے کی وجہ ہے توانہوں نےوضاحت کی کہ 2007 میں ریتلے صحرا اور اونٹوں کی تصویر کشی شروع کی ’صحرا کا بادشاہ‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی اس کی تصاویر کو غیرمعمولی شہرت ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں ریت کے ٹیلوں والا ہر علاقہ پسند ہے۔ جہاں تک پہاڑوں کی تصویر کشی کا تعلق ہے تو سعودی عرب میں وادی الدواسر کی پہاڑیوں اور العلا کی چٹانوں کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

المطلق کو جنوری 2011 میں فوٹو ویب سائٹ "فلکر" پر دو لاکھ فوٹوگرافروں کی فہرست میں نمبر ون قرار دیا گیا۔ "فلکر" دنیا بھر سے فوٹوگرافروں کو اکٹھا کرنے والی سب سے مشہور سائٹ ہے۔

"صحرا میں سمندری طوفان" کے عنوان کے تحت المطلق کی ایک تصویر 2 ستمبر 2011 کو وسیع پیمانے شائع ہونے والے برطانوی اخبار "ڈیلی میل" کے صفحہ اول پرشائع کی گئی تھی۔

برطانوی اخبار "دی ٹائمز" نے ہفتہ 3 ستمبر 2011 کو ایک خبر پیش کی جس پر المطلق کی ایک تصویر تھی۔ نیشنل جیوگرافک میگزین نے اپریل 2017 میں ان کی ایک تصویر شائع کی۔

المطلق نے اس بات پر زور دیا کہ فوٹوگرافر کی پیشہ ورانہ مہارت کے لیے ایک خاص قسم کی فوٹوگرافی میں مہارت حاصل کرنا اور دوسروں کی تصویریں دیکھنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کسی بھی نوآموز فوٹوگرافرکو "فوٹو شاپ" اور "لائٹ روم" کے پروگرام سیکھنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ فوٹو گرافی کے میدان میں اترنے والے نوجوانوں کو پہلے اس فن کی بنیادی معلومات سیکھ لینی چاہئیں۔

اپنی مستقبل کی امنگوں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ یورپی نمائشوں میں سے کسی ایک میں اپنی تصویری نمائش منعقد کرنا میرا خواب ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں