’العلا کی چٹانوں کا ثقافتی ورثہ جس کی تاریخ دور نبوت سےملتی ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کی العلا گورنری کو مملکت میں اسلامی اور عرب تاریخی اور ثقافتی ورثے کا سب سے بڑا شہر قرار دیا جاتا ہے۔ العلا گورنری اوراس کے مضافات آثار قدیمہ کے نوشتہ جات، راک آرٹ، اور اسلامی نقوش اور تحریروں کی ایک بڑی تعداد سے مالا مال ہیں جو پتھرپر کندہ کی گئی ہیں۔

اس سلسلے میں نوادرات اور ورثہ کے محقق اور فوٹوگرافرعبد الالہ الفارس نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ مؤرخین کی کتابوں میں العلا گورنری میں بعض اسلامی کتب کے متعدد حوالے موجود ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ مقام تبوک شہر کے جنوب میں البریکہ میں وادی المطلع کے قریب العلا کے شمال میں پہاڑوں میں سے ایک میں ہے جہاں شمال مشرق سے پہاڑ کی چٹانی پہلو پراسلامی تحریریں پھیلی ہوئی ہیں۔ جنوبی اور مغربی اطراف کی چٹانوں پر تصاویر، اسلامی تحریریں اور نوشتہ جات موجود ہیں۔ ان میں سے بعض ایک یا ایک سے زیادہ چٹانوں پر دیکھے جا سکتے موجود ہیں۔

یہ اسلامی کتب خانہ کی سب سے خوبصورت اور ممتاز کتب خانہ ہے جو اوپن ایئر لائبریری کی شکل میں ہے، 150 سے زیادہ آثار قدیمہ کے نوشتہ جات ہیں اور ان میں سے بہت سے نوشتہ جات ابتدائی اسلامی دور اور اسلام کے آغاز کے ہیں۔ جہاں تک ان نوشتہ جات کے مواد کا تعلق ہے۔ ان میں کچھ مقامی تحریریں اور دعائیں ہیں۔ یہ تحریریں دوسطروں سے شروع ہو کرپانچ سطروں تک پائی جاتی ہیں۔

العلا گورنری کسی دور میں بلاد شام اور مکہ معظمہ کےدرمیان حجاج کرام کے قافلوں کے گذرنے کا ایک راستہ اور پڑاؤ ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی چٹانوں پر موجود عبارتوں میں حجاج کرام کی اللہ سے مغفرت اور رحمت کی دعائیں بھی ملتی ہیں۔ یہاں پر قرآن پاک کی آیات بھی لکھی گئی ہیں جب کہ بعض صحابہ کرام کے نام بھی ملتےہیں۔ یہ نقوش اور عبارتیں پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے قریب قریب لکھی گئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پہاڑی سطح مرتفع پرکندہ کیےجانے والے زیادہ تراسلامی نقوش اورتحریریں نہ صرف ابتدائی اسلامی دور میں عربی خطاطی کی ترقی کا پتا دیتی ہیں بلکہ خطے میں ترقی اور تہذیبی خوشحالی کا بھی ثبوت ہے۔ جزیرہ نما عرب کے ہمسایہ ممالک میں علوم و فنون کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں