اصفہان میں ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کے مندوب پر حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے وسطی شہر اصفہان میں ایک نوجوان نے کل جمعہ کے روز ایک قدامت پسند ایرانی شیعہ عالم دین پر نماز جمعہ کے دوران حملہ کر دیا تاہم اس حملے میں وہ محفوظ رہے۔

اصفہان میں نماز جمعہ کے امام آیت اللہ یوسف طبطبائی نژاد جو شہر میں ایرانی سپریم لیڈرکے نمائندے سمجھے جاتے ہیں نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ ایک نوجوان جس کو شاید کوئی مسئلہ تھا نے اچانک مجھ پر حملہ کردیا۔ اس کے حملےسے مجھے گردن پر چوٹ آئی مگر اسے پکڑ لیا گیا ہے۔ اس حملے کےمحرکات کی چھان بین جاری ہے۔

ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ ملکی سیکیورٹی فورسز نے نوجوان کو اصفہان کے نماز جمعہ کے امام پر حملے کے بعد گرفتار کر لیا۔

فارس کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ طبطبائی نژاد سے تعلق رکھنے والے نامعلوم نوجوان جمعہ کی نماز کے بعد نمازیوں سےباتیں کرتے کرتے علامہ طبطبائی کے قریب پہنچا اور ان پر تیز دھاتی چیز سے وار کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسجد کے محافظوں نے اسے فوری طور پر حراست میں لے لیا اور یہ کہ کیس کی تفتیش جاری ہے۔

ایران میں خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور بدعنوانی کے خلاف جاری مظاہروں کے بعد حال ہی میں ایک عمارت کےزمین بوس ہونے اور دسیوں افراد کی ہلاکت کے بعد حکومت کے خلاف عوامی غم وغصے میں اور بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ عوام کی طرف سےحکومت پر بدعنوانی کا الزام عاید کیا جا رہا ہے۔

حکام کی جانب سے حفاظتی اقدامات سخت کرنے اور اختلاف رائے پر کریک ڈاؤن کرنے کے بعد ایران میں علماء اور سرکاری اہلکاروں پر حملے شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں۔

گذشتہ مہینوں کے دوران قیمتوں میں اضافے اور حکومتی سبسڈی میں کٹوتیوں پر ایران میں احتجاجی ریلیوں کے دوران مذہبی مبلغین کے خلاف نعرے لگائے گئے۔

اپریل کے اوائل میں مشہد کے شمال مشرقی شہر میں امام رضا کے مزار پر چاقو کے حملے میں تین شیعہ مبلغ ہلاک ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں