مکہ: حجاج کے لیے تین ہزار رہائش گاہیں،ہوٹلوں کےاڑھائی لاکھ کمرے مختص

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مکہ المکرمہ میں عازمین کی رہائش کے لیے مختص کردہ ہاؤسنگ یونٹس کے مالکان کا کہنا ہے کہ رواں سال حج کے سیزن میں رہائشی کمرے کرایہ پر لینے کے لیے زیادہ سے زیادہ عازمین حج رابطہ کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ہاؤسنگ ورکس نے عازمین کے استقبال کے لیے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

اس تناظرمیں قومی کمیٹی برائے حج، عمرہ اور زیارت کے رکن اور مکہ مکرمہ میں ہوٹلز کمیٹی کے رکن ہانی العمیری نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ یہاں مکہ میں حجاج کرام کے قیام کے لیے 3000 سے زائد رہائش گاہیں مختص ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ میں ہوٹلوں کے تقریباً2 لاکھ 50 ہزار کمرے حجاج کرام کے قیام کے لیے تیار ہیں۔ ان کمروں میں حجاج کرام کی آسانی کے لیے بین الاقوامی معیار کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ حفظان صحت کے اصولوں کا خاص خیال رکھا گیا ہے اور ہوٹلوں میں مالکان کی طرف سے اللہ کے مہمانوں کی صحت کے پیش نظر سینی ٹائزر کے استعمال کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

بلڈنگ پرمٹ کا اجراء بند

دوسری طرف حجاج کی رہائش کی ذمہ دار کمیٹی نے عازمین حج کی رہائش کے لیے عمارتوں کے اجازت نامے جاری کرنے کی مدت ختم کر دی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ مقدس شہر مکہ اور سول ڈیفنس کے سیکرٹریٹ کی طرف سے منظور شدہ متعدد مشاورتی انجینیرنگ دفاتر کو عازمین کے لیے تیار کی گئی قیام گاہوں معائنہ کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی تاکہ جن ضوابط اور اصولوں پرمٹ جاری کیا گیا تھا ان پرپر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

دوسری جانب کرونا وبا کی وجہ سے دو سال کی غیر حاضری کے بعد مکہ مکرمہ کے مختلف رہائشی محلوں میں عازمین کی رہائش کے لیے مختص کئی عمارتیں حج سیزن کے لیے کرائے کے بینروں سے سج گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں