مخلوط اسرائیلی حکومت کو پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے دوران شکست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دائیں بازو کی مخلوط اسرائیلی حکومت کو پارلیمنٹ میں اس وقت شکست کا سامنا ہو گیا جب یہودی آبادکاروں کو اسرائیل میں قانونی وسیاسی حقوق دینے سے متعلق قانون کی تجدید کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ 1967 کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں مغربی کنارے اور یروشلم میں آباد کیے گئے یہودیوں کو اس قانون کے تحت تمام شہری حقوق کی ضمانت دی گئی ہے اور اس قانون کی ہر پانچ سال بعد پارلیمنٹ تجدید کرتی ہے۔

ایک انتہائی کمزور عددی اکثریت کے ساتھ قائم اس حکومت کو حالیہ دنوں عرب آبادی کے نمائندے نے چھوڑ دیا تھا، گذشتہ روز اسرائیلی پارلیمنٹ میں یہودی آبادکاروں کے شہری حقوق سے متعلق یہ قانون تجدید کے لیے پیش کیا گیا تو حکومتی بنچوں کو پہلی خواندگی پر ہی شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ عرب رکن پارلیمنٹ کے علاوہ ایک بائیں بازو کے یہودی رکن پارلیمنٹ نے بھی حکومتی دشمنی کے باعث قانون کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔

معلوم ہوا ہے کہ مخلوط حکومت کے باغی ہو جانے والے اتحادی قانون کی تجدید کے خلاف نہیں، مگر وہ نفتالی بیننٹ کے زیر قیادت مخلوط حکومت کی اکثریت برقرار رکھنے کے حق میں نہیں ہیں۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن ارکان نے بھی انہی بنیادوں پر مخالفت کا اعلان کیا تھا۔ اس طرح حکومت کے حق میں صرف 52 ووٹ پڑے۔ نتیجتاً حکومت ایوان میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے میں ناکام ہو گئی۔

تاہم حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اگلے مرحلے میں زیادہ قوت کے ساتھ سامنے آئے گی۔ مذکورہ قانون کی تجدید یکم جولائی تک ضروری ہے۔ بصورت دیگر پونے پانچ لاکھ یہودی بنیادی شہری حقوق سے محروم ہو جائیں گے۔ ان سے ووٹ کا حق بھی واپس ہو جائے گا۔

اسرائیلی مبصرین کا خیال ہے کہ نیتن یاہو اور ان کی لیکوڈ پارٹی قانون کی مخالفت نہیں کرے گی اور نہ ہی اس کی بروقت منظوری میں رکاوٹ بنے گی۔ البتہ وہ مخلوط حکومت کو مزید کمزور کرنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔ لیکوڈ پارٹی نے پارلیمنٹ میں حکومتی شکست کے بعد ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ ''وقت آ گیا ہے کہ وزیر اعظم بیننٹ گھر جائے۔ تاکہ اسرائیل واپس اپنے راستے پر آ سکے۔۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں