سعودی عرب نفرت، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف کوشاں ہے: بن معمر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ثقافتی رابطے کے لیے "سلام" پروجیکٹ کے جنرل سپروائزر فیصل بن عبدالرحمن بن معمر نے عالمی مکالمے میں مملکت کےعالمی سلامتی اور امن کے حصول کے لیے اس کی موثر شراکت، احترام انسانیت اور بقائے باہمی، عدم برداشت کا مقابلہ کرنے اور نفرت کو مسترد کرنے کے موقف کا اعادہ کیا۔

قاہرہ میں منعقد ہونے والے "السلام سینٹر فار اسٹڈیز آف ایکسٹریمزم" کے دارالافتا کی پہلی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب انہوں نے انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے مملکت سعودی عرب اور اس کی دانشمندانہ قیادت کی مسلسل کارکردگی کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نےکہا کہ دہشت گردی اپنی مختلف شکلوں اور مظاہر میں مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پرموجود ہے مگر ہم دہشت گردی اور انتہا پسندی لعنت سے خطے اور پوری دنیا کو پاک کرنے کے لیے جاری کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے فکری اور معاشی طور پر انتہا پسندی اور تشدد اور نفرت پر اکسانے کے ذرائع کو خشک کرنے کے لیے مملکت کے 2030 کے وژن کی تعریف کرتے ہوئے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کے موقف کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہزادہ محمد بن سلمان رواداری، برد باری اور اعتدال پسندی کی اقدار پھیلانے اور نفرت اور انتہا پسندی کو مسترد کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔

تہذیبی اور ثقافتی رابطے کے "سلام" پروجیکٹ کے جنرل سپروائزر بن معمر نے کہا کہ سعودی قیادت انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مملکت کی کوششوں کو اجاگر کرنے اور مملکت کی آواز اور پیغام کو دنیا تک پہنچانے میں کامیاب ہوئی جس میں رواداری، رابطے اور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں