موت سے دوچار آذربائیجانی کے لیے سعودی نوجوان مسیحا کیسے بنے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں ایمرجنسی کی حالت میں لوگوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی تربیت لینے والے غالب اللویش نے آذربائیجان میں اپنے تفریحی سفر کے دوران بھی "ایمرجنسی میڈیسن" میں اپنی مہارت سے انسانیت کو فائدہ پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ سعودی عرب کے نوجوان غالب اللویش آذربائیجان کے سیاحتی دورے پر تھے۔ ان کے سامنے ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کی خبر سات سمندر پار تک جا پہنچی۔ یہ انسانی جان بچانے کا واقعہ ہے۔ غالب اللویش اور اس کے ساتھی ایک مصروف شاہراہ پر جا رہے تھے کہ سڑک کے کنارے ایک خاندان پریشان حال کھڑا دکھائی دیا۔ خاندان کے ایک شخص کو دل کا دورہ پڑا تھا اور وہ زندگی موت کی کشمکش میں تھا۔

غالب اللویش کے ہمراہ آذربائیجان کے سیاحتی سفر میں ایک دوسرے نوجوان عید الشمری بھی ہمراہ تھے۔انہوں نے’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ قابالا گاؤں سے دارالحکومت باکو جا رہے تھے۔ سڑک پر انہوں نے کاروں کا ایک ھجوم دیکھا۔ کچھ لوگ اونچی آواز میں چیخ پکار کر رہے تھے اور منظر انتہائی تکلیف دہ تھا۔ ان نازک لمحات میں ان کی مدد ضروری تھی۔ ہم دوستوں نے معاملے کی تفصیلات جاننے کے لیے گاڑیوں سے اترنے کا فیصلہ کیا۔ ہمیں پتا چلا کہ ایک شخص کو دل کا دورہ پڑا ہے اور وہ شدید تکلیف میں ہے۔ اس لیے انہوں نے فوری مداخلت کی تاکہ مریض کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

اللویش نے اس آدمی پر ’سی پی آر‘ کیا اوراس کی نبض اور سانس آہستہ آہستہ واپس آنے لگے۔ اس کے بعد متاثرہ شخص کواس کے خاندان کی گاڑی میں شاماخی اسپتال منتقل کیا گیا۔ راستے میں اللویش اور اس کے دوستوں نے باری باری اس شخص کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی تاکہ اس کی حالت دوبارہ خراب نہ ہو۔

اسپتال پہنچنے پر مریض کی اہم علامات نارمل تھیں اور طبی عملے نے اس کا فوری علاج شروع کردیا۔ اس دوران سعودی نوجوان اسپتال میں اس کے ساتھ رہے اور مریض کی صحت کے حوالے سے تسلی ہونے تک وہ اسپتال میں موجود رہے۔

الشمری نے مزید کہا کہ اللویش ایک ہیلتھ پریکٹیشنر ہیں اور رفحاء جنرل اسپتال میں ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتے ہیں۔اس مہم جوئی میں الشمری اور ایک دوسرے دوست نے بھی مدد کی۔ اس نے بتایا کہ ہم دونوں پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرتے ہیں مگر ہم نے ہنگامی حالات میں طبی امداد کی تربیت بھی لے رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آذربائیجان میں ایک شدید بیمار شخص کے لیے مسیحا ثابت ہوئے۔

سعودی عرب سے آنے والے تینوں نوجوانوں کی اس انسانی مدد پر آذر بائیجان میں ان کی تحسین کی جا رہی ہے۔ متاثرہ خاندان نے نوجوان مسیحاؤں کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں