القدس:اسرائیلی عدالت کاچرچ کی اراضی کی آبادکارگروپ کومتنازع فروخت کے حق میں فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی اعلیٰ عدالت نے ایک یہودی آباد کارگروپ کو مقبوضہ مشرقی بیت المقدس (یروشلم) میں واقع یونانی آرتھوڈوکس چرچ کی جائیداد کی فروخت کے متنازع سودے کو برقرار رکھا ہے اور قراردیا ہے کہ گروپ نے قانونی طریقے سے چرچ سے اراضی خرید کی تھی۔

یہودی آبادکاروں کی تنظیم ایٹریٹ کوہنیم نے،جو اسرائیل کے زیرقبضہ مشرقی یروشلم کو’’یہودیانا‘‘چاہتی ہے، 2004 میں چرچ سے خفیہ طورپر کیے گئے ایک متنازع معاہدے میں تین عمارتیں خریدکی تھیں۔

چرچ کی اراضی کی اس طریقے سے فروخت پرفلسطینیوں نے سخت غم وغصے کا اظہار کیا تھا اورسودے سے اگلے سال چرچ کے اسقف پیٹریارک ارینیوس آئی کو برطرف کر دیا گیا تھا۔

چرچ نے ایٹیریٹ کوہنیم کے خلاف الزامات عاید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جائیدادیں غیرقانونی طورپراوراس کی اجازت کے بغیرحاصل کی گئی تھیں۔

اسرائیل کی سپریم کورٹ نے بدھ کی شام جاری کردہ فیصلے میں چرچ کی اپیل مستردکردی ہے اورکہا کہ اصل فروخت میں ملوّث فریقوں کی جانب سے غلط روی کے’’سخت الزامات‘‘پہلے کی کارروائیوں میں سچ ثابت نہیں ہوئے ہیں۔

چرچ نے عدالت کے اس فیصلےکو’’غیرمنصفانہ‘‘اور’’کسی قانونی یا منطقی بنیاد‘‘کے بغیر قراردیا ہے۔

اس نے ایٹریٹ کوہنیم کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک "بنیاد پرست تنظیم" قراردیاجس نے یروشلم کے ایک اہم مقام پرعیسائیوں کی ملکیتی اراضی کے حصول کے لیے اوچھے حربے اورغیرقانونی طریقے استعمال کیے تھے۔

چرچ کے وکیل اسد مزاوی نے اسرائیلی عدالت کے فیصلے کو’’انتہائی افسوسناک‘‘قراردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ’’ہم(صہیونی)انتہاپسندوں کے ایک گروپ کے بارے میں بات کررہے ہیں جو گرجاگھروں سے جائیدادیں لینا چاہتے ہیں، پرانے شہرکا کردارتبدیل کرنا چاہتے ہیں اور عیسائی علاقوں پر حملہ کرنا چاہتے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیل کی حمایت سے بدقسمتی سے وہ کامیاب ہورہے ہیں۔یونانی آرتھوڈوکس چرچ کو یروشلم میں عیسائیوں کا سب سے بڑا اور دولت مند گرجا گھرسمجھاجا ہے۔اس کے پاس صدیوں پرانی وسیع اراضی موجود ہے۔اسے باربار بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرناپڑاہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنی جائیدادوں پراسرائیلی آبادکاری میں توسیع کے عمل کو آسان بنایاہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے1967 کی چھے روزہ جنگ میں مشرقی یروشلم پر قبضہ کرلیا تھا اور بعد میں اس کو صہیونی ریاست میں ضم کرلیا تھا مگربیشتر عالمی برادری اس کے اس یک طرفہ جارحانہ اقدام اور قبضے کوتسلیم نہیں کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں