عراق:سیاسی تعطل کے خاتمے کےلیے استعفے تیاررکھیں؛مقتدیٰ الصدرکی ارکان کوہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق کے مقبول عوامی شیعہ لیڈرمقتدیٰ الصدر نے اپنے وفادار 73 قانون سازوں کواستعفے کے کاغذات تیار رکھنے کی ہدایت کی ہے تاکہ ملک میں گذشتہ آٹھ ماہ سے جاری سیاسی تعطل کاخاتمہ کیا جاسکے۔

گذشتہ سال اکتوبرمیں منعقدہ عام انتخابات کے بعد سے بغداد میں پارلیمنٹ میں ہنگامہ برپا ہے اور سیاسی دھڑوں کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد بھی نئے وزیراعظم کے نام پراتفاق نہیں ہوسکااور نہ کسی لیڈرنے پارلیمان میں اکثریتی ارکان کی حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

پارلیمان میں دونوں شیعہ گروپوں مقتدیٰ الصدر کی قیادت میں اتحاد اوراس کےطاقتورحریف کوآرڈی نیشن فریم ورک،دونوں نے پارلیمان میں اکثریت کا دعویٰ کیا ہے اوراس کے ساتھ نئے وزیراعظم کی نامزد کے حق کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

عراقی قانون ساز پہلے ہی آئین میں طے شدہ نئی حکومت کے قیام کی تمام آخری تاریخوں کوگزارکرچکے ہیں جس سے جنگ زدہ ملک میں جاری سیاسی بحران طویل ہوگیا ہے۔

مقتدیٰ الصدر نے جمعرات کوٹیلی ویژن پرجاری ایک بیان میں کہا کہ اگر صدری بلاک حکومت کی تشکیل میں رکاوٹ ہے تواس کے تمام منتخب نمائندے پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے کوتیارہیں۔

انھوں نے اپنے قانون سازوں سے مطالبہ کیا کہ وہ’’اپنااپنا استعفیٰ لکھ رکھیں‘‘اور یہ بھی خبردارکیا کہ ’’وہ میری نافرمانی نہیں کریں گے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت عراق کواکثریت کی حمایت یافتہ حکومت کی ضرورت ہے جو عوام کی خدمت کرے۔

سینتالیس سالہ شعلہ بیان مقتدیٰ الصدر نے 2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کےبعد امریکا مخالف ملیشیا کی قیادت کی تھی اور اس نےامریکا کی قیادت میں اتحادی افواج کی سخت مسلح مزاحمت کی تھی۔

الصدرنے کہاکہ وہ چاہتے ہیں کہ تمام شیعہ قوتیں ’’اتفاق رائے کی حکومت‘‘میں شامل ہوں۔اگرچہ الصدر73 قانون سازوں کی براہ راست وفاداری پر بھروساکرتے ہیں لیکن ان کے وسیع تربلاک میں پارلیمانی اسپیکرمحمد حلبوسی اورکردستان ڈیموکریٹک پارٹی (کے ڈی پی) کی جماعت کے سنی قانون ساز بھی شامل ہیں۔

لیکن الصدرکے 155 ارکان پرمشتمل بلاک کواب بھی 329 رکنی پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکارسادہ اکثریت کی حمایت حاصل نہیں ہے۔اس صورت میں الصدر کے حریف کوآرڈینیشن فریم ورک کے 83 قانون سازوں پرحکومت بنانے کی ذمہ داری عایدہوتی ہے جو سابق وزیراعظم نوری المالکی کی جماعت اور ایران نوازالفتح اتحاد کے قانون سازوں پرمشتمل ہے۔ الفتح سابق نیم فوجی ملیشیا پاپولرموبلائزیشن یونٹ (پی ایم یو) (الحشد الشعبی) کا سیاسی بازو ہے۔

عراقی قانون ساز پہلے ہی تین مرتبہ نئے قومی صدر کے انتخاب میں ناکام ہوچکے ہیں۔آئین کے مطابق پارلیمان میں صدرکا انتخاب وزیراعظم کی نامزدگی اوراس کے بعد حکومت کے قیام سے پہلا اہم مرحلہ ہے۔اگرپارلیمانی تعطل کا خاتمہ نہیں ہوتا تو ملک میں نئے انتخابات ہوسکتے ہیں لیکن اس کے لیے خود قانون سازوں کوپارلیمنٹ کو تحلیل کرنے پراتفاق کرنا ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں