’میں نابینا تھی، اس لیے مجھے ملازمت دینے سے انکار کیا گیا‘

اردن میں ایک نابینا خاتون پی ایچ ڈی ڈاکٹرکی کہانی وائرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران اُردن میں سوشل میڈیا پر قانون کی ایک نابینا ڈاکٹر تقیٰ المجالی کی کہانی گردش کر رہی ہے جس نے اردن کی جوڈیشل کونسل کی جانب سے ان کی تقرری سے انکار کے بعد ایک بڑا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں المجالی نے وضاحت کی کہ میں نے موتہ یونیورسٹی سے گریجوایشن اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں جس کے بعد میں نے سول سروس کمیشن کے ذریعے ملازمت کے لیے درخواست دی۔ میں اس ملازمت کے لیے کوالیفائی کررہی تھی مگر نایبینا ہونے کی وجہ سے میری درخواست رد کردی گئی۔

پیشے کے اعتبار سے وکیل ہونے کے ساتھ تقی المجالی معذور افراد کے حقوق کی سرگرم کارکن بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مقابلے کا امتحان دینے کے لیے جوڈیشل انسٹی ٹیوٹ بھی گئی، لیکن ادارے کے قانون کے آرٹیکل 10 کی بنیاد پر درخواست دینے کی شرائط پوری نہ کرنے کی وجہ سے اسے مسترد کر دیا گیا۔

جب سماجی رابطوں کی سائٹس پرتقیٰ المجالی کہانی شائع ہوئی تو اس کے ساتھ ہرطرف سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ ٹویٹر پر ہیش ٹیگ "انسٹینس از تقیٰ المجالی" ٹاپ ٹرینڈ رہا۔

سوشل میڈیا کارکنوں نے مطالبہ کیا کہ تقیٰ کی تقرری کے لیے اس کا امتحان لیا جائے جیسا کہ عدلیہ میں ملازمت کے لیے اس نے مقابلے کا امتحان پاس کیا تھا۔

دوسری طرف "میرا بیٹا" مہم کے میڈیا ترجمان انس ضمرہ نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ مجالی نے معذور افراد کے حقوق سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کی بابت اردن کے عدالتی ادارے کو ایک دستاویزی اعتراض جمع کرایا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اسے انسٹی ٹیوٹ میں شامل ہونے سے خارج کرنا اس کے ساتھ امتیازی سلوک اور اس کی معذوری کی بنیاد پر اس کا اخراج ناقابل قبول ہے۔

اس مہم نے قانون کی حکمرانی کی ضرورت پر زور دیا اور معذور افراد کے حقوق کےلیے انہیں مساوی مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

درایں اثنا اردن کی جوڈیشل کونسل کے سیکرٹری جنرل جسٹس ولید کاناکریہ نے کہا کہ کونسل بغیر کسی امتیاز کے مساوی مواقع کو یقینی بنانے کی خواہشمند ہے اور معذور افراد کے حقوق کا احترام کرنے اور مختلف ملازمتوں کے لیے ان کی تقرری کی ضرورت پر زور دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں