امریکی معاون وزیرخارجہ چار روزہ دورے پر آج اسرائیل پہنچیں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسسٹنٹ سکریٹری برائے خارجہ امور برائے مشرق قریب باربرا لیو آج بروز سینچر 11 جون کو چار روزہ دورے پر اسرائیل پہنچ رہی ہیں۔

چودہ جون تک جاری رہنے والے دورے کے دوران وہ فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام علاقے غرب اردن کا بھی دورہ کریں گی۔ ان کے اس دورے کا مقصد خطے میں جارحانہ ایرانی سرگرمیوں کو روکنے سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ باربرا لیو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے ساتھ ترجیحات کے ایک سیٹ اپ پر بھی مشاورت کریں گی۔ وہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی دونوں کے ساتھ دو طرفہ امریکی تعاون کو مضبوط کرنے، اسرائیل۔فلسطین تعلقات، دو ریاستی حل کے لیے امریکی حمایت اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کو زیادہ سے زیادہ تسلیم کرانے کے لیے کوششیں کرنے اور دیگر امور پر بات تبادلہ خیال کریں گی۔

ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان اور ان کے اسرائیلی ہم منصب ایال ہولاٹا نے اس ماہ کے شروع میں دونوں اطراف کے دیگر حکام کی ایک ملاقات کے دوران کہا تھا کہ دونوں ملک ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے اور اس کی "جارحانہ" علاقائی سرگرمیوں کے خلاف اقدامات کریں گے۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے 3 جون کو ’آئی اے ای اے‘ کے سربراہ رافیل گروسی سے کہا تھا کہ اسرائیل ایرانی جوہری پروگرام پر محاذ آرائی کے لیے سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ ہم اپنے دفاع کے لیے آزادانہ طور پرکچھ بھی کرسکتے ہیں۔

خفیہ دستاویزات کی چوری

گذشتہ ہفتے اسرائیل نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ بین الاقوامی ایجنسی سے خفیہ دستاویزات چوری کر رہا ہے اور تقریباً دو دہائیوں سے بین الاقوامی معائنہ کاروں کو دھوکہ دینے کے لیے ان کا استعمال جار رکھے ہوئے ہے۔ دوسری طرف ایران نے اسرائیل کے ان الزامات کو من گھڑت اور جھوٹ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

اسرائیل 2015 کو ایران اور عالمی طاقتوں کےدرمیان طے پانے والے معاہدے کا شدید مخالف تھا۔ سنہ 2018ء میں جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یک طرفہ طور پر یہ معاہدہ ختم کیا تو اسرائیل نے اس کا خیر مقدم کیا تھا۔ موجودہ امریکی حکومت ایک بار پھر ایران کے ساتھ طے پائے معاہدے کو بحال کرنا چاہتی ہے۔

امریکا اور اسرائیل نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کو مسترد نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں