امریکی نمائندہ برائے توانائی لبنان جائے گا

دوروزہ دورے میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان بحری حدود تنازعے پر بات ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

توانائی کے امور کے لیے امریکی نمائندہ ایموس ہوچسٹین اگلے دو دنوں میں بیروت پہنچیں گے تاکہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان بحری حدود کے تنازعے پر معطل مذاکرات کی بحالی کے لیے کوشش کر سکیں۔

امریکی دفتر خارجہ کی طرف سے اعلان کے مطابق 13 اور 14 جون کو اس امکانی دورے کے حوالے سے جوبائیڈن انتظامیہ پرامید ہے دونوں ممالک جو تکنیکی طور پر حالت جنگ میں ہیں اس سلسلے میں نتیجے پر پہنچ جائیں گے اور بحری سرحدوں کے تعین کے معاملات طے پا جائیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جوبائیڈن انتظامیہ دونوں ملکوں کےاس جذبے کا بھی خیر مقدم کرتی ہے کہ وہ حتمی فیصلے تک پہنچنے کے لیے مشاورتی عمل کے حق میں ہیں۔ جس کے نتیجے میں لبنان اور اسرائیل ہی نہیں خطے کے لیے بھی استحکام، سلامتی اور خوشحالی آئے گی۔ خیال رہے امریکہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان تنازعات طے کرانے کے لیے سنہ 2000 کے شروع سے کوششیں کر رہا ہے۔

امریکی نمائندہ برائے توانائی اس موقع پر لبنان کو درپیش توانائی بحران پر بھی بات کریں گے۔ تاکہ لبنانی توانئی بحران کا پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔ ہوچسٹین اوباما انتظامیہ کے دور میں بھی یہ کوششیں کر چکے ہیں۔

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہوتے ہوئے دونوں ملکوں نے ایک مرتبہ پھر ایک کمرے میں بیٹھ کر باہمی مسائل کے حل پر اتفاق کر لیا تھا۔ تاہم امریکہ میں انتظامیہ کی تبدیلی کے بعد دوبارہ سے ان مذاکرات میں وقفہ آگیا تھا۔ ہوچستین نے اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔

دوسری جانب لبنانی حکام نے بھی اسرائیل کے ساتھ بحری حدود کے تنازعے کو طے کرنے کے لیے امریکی نمائندے کو دعوت دی تاکہ اس پیش کش پر بات کر سکیں جو انہیں تحریری طور پر بھجوائی گئی تھی۔

اسی ہفتے اس وقت ایک نیا ایشو کھڑا ہو گیا تھا جب یونانی جہاز گیس کی تلاش کے لیے کھدائی کرنے کے لیے متنازعہ بحری حدود میں داخل ہوا۔ اس پر لبنان کی حکومت اور حزب اللہ دونوں نے ا س واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ اسرائیل کے ساتھ ساتھ اس جہاز کے خلاف بھی کاروائی کی جا سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں