رفعت السبیعی کو یقین نہیں تھا کہ اس کا آرٹ عوام میں اتنا مقبول ہوگا

سدو کشیدہ کاری کو منفرد اسلوب میں پیش کرنے والی سعودی آرٹسٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کھڈی [کرگھے] پراپنی انگلیوں کی خوبصورت حرکت کے ساتھ سعودی عرب کی ایک خاتون کاریگررفعت السبیعی نے سدو، سلائی کڑہائی اور ڈیزائن میں اپنے کام کے معیارکی طرف توجہ مبذول کرائی کیونکہ اس کی تخلیقات میں ثمودی تحریریں شامل تھیں جنہیں وہ ڈیزائن میں شامل کرنے معاصرتخلیق کاروں سے مختلف کام پیش کیا۔ انہوں نے ثقافتی فن پاروں، عباوٗں اور شیلڈز پرسدو سے ڈیزائن کرنا شروع کیا۔ مسلسل محنت اور تجربے کے تیس سال بعد آج رفعت کشیدہ کاری اور کڑھائی کے منفرد ماڈل پیش کرنے میں نام کما چکی ہیں۔ رفعت السبیعی کا کہنا ہے کہ یہ آرٹ انہیں ان کے خاندان کی طرف سے ورثے میں ملا ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے رفعت نے بتایا کہ وہ بچپن سے سدو [روایتی کشیدہ کاری اور کڑھائی] کے آرٹ سے محبت کرتی تھیں، جہاں اسے یہ پیشہ اپنی والدہ سے وراثت میں ملا تھا اور اس نے صحرا میں 10 سال کی عمر سے سدو میں کام کرنے میں مہارت حاصل کرلی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں اس فن میں مہارت کرنے میں کافی وقت لگایا۔ پھر اس آرٹ کو اپنے گھرمیں موجود چیزوں، پورے گھر کے فرنیچر،دیواروں کی سجاوٹ، لحاف اور قالین، برتنوں اور تھیلوں پر کشیدہ کاری کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں اس پیشے سے محبت کرتی تھی اور چھٹیوں میں اور سال کے دیگر فارغ اوقات میں اپنی پڑھائی مکمل کرنے کے لیے اپنے خاندان کے ساتھ بیابانوں میں جایا کرتی تھی۔

انہوں نے روایتی کشیدہ کاری ’سدو‘ اور اس کی مصنوعات سے متعلق بہت سے میلوں ٹھیلوں میں بھی حصہ لیا۔ ایسے میلوں میں ایک کا نام’نعیریہ‘ تھا جسے "نعیریا میں ہمارے ساتھ ایک چوتھائی" کا عنوان دیا گیا تھا۔ رفعت نے 17 سال سے زائد عرصے تک اس فیسٹیول میں رضاکارانہ طور پر اپنی مصنوعات پیش کیں۔ انہوں نےمیلے میں زائرین کو سدوسے ڈیزائن کردہ تحائف بھی پیش کیے۔ ان تحائف میں سے سب سے اہم تحفہ السدو کی طرف سے مشرقی صوبے کے گورنر شہزادہ سعود بن نایف کو دیا گیا تحفہ تھا۔

ایک سوال کے جواب میں رفعت السبیعی نے بتایا کہ آرٹ کے کام میں اسے اس کے خاندان ، علاقے کے لوگوں اور مشرقی گورنری کے گورنر اور حکومتی عہدیداروں کی طرف سے بھرپور حمایت حاصل رہی ہے۔ سدو ڈیزائن کی پیداوار اور سدو سے ہینڈ بیگ کی پروسیسنگ میں بہترین کارکردگی کا چیلنج پیدا کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے سدو آرٹ سے پینٹنگز اور تھیلوں کی مختلف اقسام کی تیاری کا کام کیا۔ سدو سے بنے تحائف کو لاگو کیا اور وفود اور سیاحوں، ہوٹلوں اور ہوائی اڈوں تک ان کا تعارف کرایا گیا۔ اس مہم کے نتیجے میں عوام کی طرف سے غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ رفعت کو یقین نہیں تھا کہ اس کی تیار کردہ آرٹ کی مصنوعات کو اتنی زیادہ پذیرائی حاصل ہوگی۔

کھڈی اور سلائی کڑھائی کے روایتی طریقوں میں کی ترقی کے بارے میں انہوں کہا کہ میں نے روایتی لوم کی شکل کو تبدیل کر دیا ہے جو سدو تیار کرتا ہے۔لہذا لوم شروع میں نام نہاد سطحوں اور زمین پر لکڑی پر مبنی تھا۔ اور پھر کام کے لیے لوم کوکئی شکلوں میں تیار کیا۔ اس کے تیار کردہ کر گھے سے قدرتی سدو، الشنف، العویرجان، الشجرہ اور البکل اور ان کرگھوں کے نام زیادہ اہم ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ سدو کے فن میں قدیم اور جدید کی خصوصیات ہیں۔ یہ ایک مستند ورثہ ہے جسے مملکت کے باہر اور اندر محفوظ اور پھیلایا جانا چاہیے۔ان کا کہنا ہے کہ میں نے سدو آرٹ کو عام کرنے کے لیے اسے نئی نسل تک پہنچانے کا عزم کیا اور اس مقصد کے لیے مختلف پیشہ ور اداروں کےہاں تربیت حاصل کرکے اس آرٹ کی اسناد بھی حاصل کیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں