فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے لیے امریکی وفد کی رام اللہ آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی حکام کے ایک وفد نے دورہ اسرائیل کے دوران فلسطینی اتھارٹی کے صدر دفتر رام اللہ میں فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے تبادلہ خیال کرنا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس اور امریکی وزیر خارجہ کی معاون برائے مشرق وسطیٰ امور باربرا لیف کی سربراہی میں ایک امریکی وفد نے رام اللہ میں "امریکا ۔ فلسطین تعلقات، فلسطینیوں کے لیے واشنگٹن کی امداد اور تعلقات کے استحکام کے بارے میں بات چیت کی‘‘۔ محکمہ خارجہ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک عربی بیان میں کہا ہے کہ ان کے اس دورے کا مقصد امریکا اور فلسطین کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔"

گیارہ جون ہفتے کو لیف نے اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کا تین روزہ دورہ شروع کیا۔

ملاقات کے دوران عباس نے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کو دہشت گرد تنظیموں کی امریکی فہرست سے نکالنے اور واشنگٹن میں تنظیم کے دفتر اور یروشلم میں فلسطینیوں کے لیے امریکی قونصل خانے کو دوبارہ کھولنے کے مطالبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے مشرقی یروشلم میں امریکی قونصل خانے کو دوبارہ کھولنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جو ان کے پیشرو ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں بند کر دیا گیا تھا۔ سابق صدر کی انتظامیہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا تھا۔ موجودہ امریکی انتظامیہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات کو تسلیم کیا ہے، تاہم امریکا کی اس پالیسی پر فلسطینی سخت ناراض ہیں کیونکہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی آزاد اور خود مختار ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

اسرائیل یروشلم میں فلسطینیوں کے لیے قونصل خانہ دوبارہ کھولنے کی مخالفت کرتا ہے۔اس کے بجائے یہ تجویز کرتا ہے کہ امریکا مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈ کواٹر رام اللہ میں سفارتی مشن کھولے۔

گذشتہ چند دنوں کے دوران امریکا نے "فلسطینی امور یونٹ" کا نام بدل کر "فلسطینی امور کا دفتر" رکھ دیا، لیکن اس دفتر کی شناخت قونصل خانے کے طور پر نہیں کی۔

اس نئے دفتر کے ترجمان کے مطابق یہ دفتر یروشلم میں امریکی سفارت خانے کی سرپرستی میں کام کرتا ہے، لیکن اہم امور پر براہ راست واشنگٹن میں محکمہ خارجہ کو رپورٹ کرتا ہے جس کا مقصد امریکی سفارت کاروں کے ساتھ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے رابطوں کو مضبوط کرنا ہے۔

یہ تبدیلی صدر بائیڈن کے خطے کے ممکنہ دورے سے پہلے سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر کا جون کے آخر میں سعودی عرب، اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کا دورہ کرنے کا ارادہ تھا، لیکن امریکی میڈیا کے مطابق ممکنہ دورہ جولائی تک ملتوی کر دیا گیا۔

ہفتے کے روز سرکاری فلسطینی وفا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ لیف کی سربراہی میں وفد کے دورے کا مقصد "صدر بائیڈن کے دورے کی تیاری کرنا ہے، کیونکہ امریکی صدر محمود عباس سے بھی ملنا چاہتےہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں