محمود عباس کے متوقع جانشین بھی اسرائیل کے ساتھ تعاون کے حامی نکلے

انتخابات لیے اسرائیلی اجازت ضروری ہے: انٹرویو میں حسین شیخ کا اظہار خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی اتھارٹی کے 86 سالہ صدر محمود عباس کی جانشینی کے لیے تیار کیے جانے حسین شیخ بھی محمود عباس کی طرح اسرائیل کے ساتھ مل کر چلنے اور امن کے ماحول میں کام کرنے کی طرف مائل ہیں۔

حسین شیخ کے بقول ان کے پاس اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے کے علاوہ کوئی آپشن ہی نہیں ہے تاکہ فلسطینیوں کی بنیادی ضروریات پوری ہوتی رہیں۔ تاہم اسرائیل کے ساتھ معاملات اس قدر دگرگوں ہو چکے ہیں کہ اب امور کی انجام دہی میں پرانا معمول جاری رکھ سکیں۔

حسین شیخ کے بارے میں ایک عرصے سے اس طرح کی باتیں چل رہی تھیں کہ وہ محمود عباس کے بعد فلسطینی اتھارٹی کے ممکنہ سربراہ ہوں گے، کیونکہ محمود عباس نے 2006 سے فلسطینی اتھارٹی کو چلانے کے انتخابات نہیں کرائے اور ایک آمر کی طرح من مانے انداز میں ہی معاملات کو چلاتے رہے ہیں۔ ا س وجہ سے ان کی شخصت متنازعہ بن گئی۔ مگر انہوں نے پھر بھی نے انتخابات کی طرف جانے کا رسک نہیں لیا کہ ان کا اقتدار خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اب بظاہر اپنے بڑھاپے اور صحت کی وجہ سے حسین شیخ کو پچھلے ماہ ہی تنظیم آزادی فلسطین ’’پی ایل او‘‘ کا سیکرٹری جنرل مقرر کیا ہے۔

حسین شیخ کے سیکرٹری جنرل پی ایل او بننے کے بعد امریک خبر رساں ادارے نے ان کا فوری خیر مقدمی اور تعارفی انداز کا نٹرویو کیا۔ تاکہ ان کے مستقبل کے ارادوں اور اسرائیل کے ساتھ معاملات چلانے کے بارے میں امکانی سوچ سامنے آ سکے۔ حسین شیخ نے اپنے انٹرویو میں کہا ''ہم نے اسرائیل کے ساتھ کوآرڈینیشن اور تعاون کا وعدہ کر رکھا ہے کہ تاکہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے کس سلسلے میں پیش آگے بڑھ سکے۔'

اکسٹھ سالہ حسین شیخ نے ایک سوال کے جواب میں ممکنہ انتخابات کے بارے میں ا س طرح جواب دیا ''فلسطینی اتھارٹی کے نئے صدر کا انتخاب ضرور انتخابی عمل کے ذریعے ہونا چاہیے لیکن انتخابات کا انعقاد صرف اسی صورت ممکن ہو گا کہ اسرائیل پورے مشرقی یروشلم میں ووٹنگ کی اجازت دے۔'' حسین شیخ نے بھی تسلیم کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کا صدر منتخب ہو سکتا ہے نا کہ مقرر کردہ، نہ ہی یہ صدر طاقت کی بنیاد پر مسلط ہو سکتا ہے اور نہ ہی اسرائیلی ٹینکوں پر بیٹھ کر آ سکتا ہے۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں