’سعودی عرب کی زکیہ آرٹ کے روایتی تصور کیوں تبدیل کرنا چاہتی ہیں‘

خاتون آرٹسٹ نے پینٹنگز کو کڑھائی کے فن میں کیسے تبدیل کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں فائن آرٹ کی ایک آرٹسٹ ذکیہ الحربی نے رضاکارانہ طور پر سوئی، دھاگے سے کپڑوں پر کڑھائی کے آرٹ کو ایک نئی شکل دی ہے۔ انہوں نے اپنے اس فن کے ذریعے اپنی منفرد پہچان بنائی۔ حروف اور خطوط کو کڑھائی والے آرٹ کے ٹکڑوں میں تبدیل کیا۔ ذکیہ اس مقام تک پلک جھپکتے نہیں پہنچ گئی بلکہ منزل کے حصول کے لیے اسے طویل عرصہ دن رات محنت کرنا پڑی۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’میری عمر 8 سال تھی جب میں نے کڑہائی کے میدان میں قدم رکھا۔ میں نے ڈرائنگ اور آرٹ کے ٹکڑوں کو کڑھائی میں تبدیل کرنے کی تربیت حاصل کی اور پھر دوسروں کو بھی یہ فن سکھایا۔ میں دستکاری سپروائزر کے طور پر کام کرتی تھی اور میں نے بریدہ میں پانچ سال سے ایک خواتین کو دستکاری سکھانے والی ایک انجمن میں خدمات انجام دیں‘۔

ذکیہ الحربی نے بتایا کہ میں نے مقامی کڑھائی کے متختلف اسلوب بالخصوص السدو، الخوص، الکنفا، الشنف الحجازی، شمالی علاقوں میں مروجہ سدو جیسے طریقوں میں مہارت حاصل کی۔ خواتین کی دست کاریوں میں کام کرتے ہوئے مجھے کپڑوں پر کڑھائی کا اچھا تجربہ ہوا۔

’تقریباً 4 سال سے کڑھائی میں اپنی مہارت اور تجربے کو بہتر بنانے اور کڑھائی کی باریکیوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے بہت سے ڈیزائن اور عربی پارچہ جات کو کڑھائی میں تبدیل کر کے دستکاری کے دقیانوسی تصور کو نئے اسلوب میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہوں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس شعبے میں اپنے تجربے کی وجہ سے مُجھے وزارت ثقافت اور ہیریٹیج اتھارٹی کے پروجیکٹ ہاؤس آف کرافٹسمین کے تعاون سے ورثہ کشیدہ کاری کے کورس کرنے کا موقع ملا۔

انہوں نے کہا کہ میں کڑھائی کے روایتی دقیانوسی تصور کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہوں جس میں سلائی اور کڑھائی کو لباس، سادہ حروف اور الفاظ تک محدود رکھا گیا ہے۔ میں آئیڈیاز اور پینٹنگز کو سوئیوں اور دھاگوں سے کڑھائی والے آرٹ کے کام میں تبدیل کرنا چاہتی ہوں۔ ایسا فن جس میں بہت وقت اور محنت صرف ہوتی ہے۔

ذکیہ کا کہنا تھا کہ میں نے یہ دستکاری کرافٹ ایسوسی ایشن سے وابستہ سعودی خواتین دستکاریوں کے ہاتھوں سیکھی اور پھر اپنی پینٹنگز اور کے عملے میں غلطیوں اور کمزوریوں کا خود مشاہدہ کرکے انہیں دور کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے آرٹ کے بعض نمونے تیار کرنے میں سات ماہ کا عرصہ لگتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں