گیس

اسرائیل اور مصر میں یورپ کو گیس برآمد کرنے پر اتفاق

معاہدہ روس سے توانائی کی درآمدات پر انحصار کم کرنے اور ممکنہ توانائی بحران سے بچنے میں مدد دے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل اور مصر کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کیا ہے کہ دونوں مل کر قدرتی گیس کی یورپ کو برآمد کے لیے کام کریں گے۔ تاکہ روس سے توانائی کی درآمدات کو کم کرنے میں مدد کی جا سکے اور کسی ممکنہ توانائی بحران کا ازالہ کیا جا سکے۔

اسرائیلی وزارت کے مطابق طے کیے گئے ''فریم ورک'' کے تحت یورپی یونین کو سب سے پہلے اسرائیلی گیس کی برآمد کی جائے گی جبکہ یورپی یونین مغربی ممالک کی کمپنیوں کی اس سمت میں حوصلہ افزائی کرے گی کہ وہ اسرائیل اور مصر میں گیس کے ذخائر کی تلاش کے لیے آگے بڑھیں۔

واضح رہے اسرائیل سے پہلے بھی کچھ گیس پائپ لائن کے ذریعے برآمد کی جارہی ہے، یہ گیس پہلے پائپ لائن کے ذریعے مصر بھیجی جاتی ہے اور اسرائیلی گیس پلانٹس کے ذریعے مائع حالت میں لا کر بحیرہ روم کے راستے یورپ بھجوایا جاتا ہے۔

اسرائیل سے مصر پہنچنے کے بعد یہ گیس بحیرہ روم سے جہازوں کے ذریعے یورپ جاتی ہے۔ اب نئی مفاہمتی یادداشت یورپ کو گیس فراہمی میں وسعت لانے کے لیے کی گئی ہے۔ امکان ہے کہ گیس کی یورپ کو فراہمی بڑھانے کے اس منصوبے کی تکمیل میں دو سال تک لگ سکتے ہیں۔

دوسری جانب مصر بھی گیس پیدا کرنے والا ملک ہے لیکن اس کی گیس کی کھپت مقامی ضرورتوں میں ہی ہو جاتی ہے۔ اسرائیلی وزیر نے کہا ''اب مفاہمتی یادداشت کے تحت اسرائیل اور مصر نے اتفاق کیا ہے کہ اپنی گیس مغربی دنیا کو فراہم کریں گے اور توانائی کے بحران پر قابو پانے میں کردار ادا کریں گے۔ ''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں