اسرائیل کا ایران کی دو فضائی کمپنیوں پر اسلحہ کی اسمگلنگ کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بیونس آئرس میں اسرائیلی سفارت خانے نے لاطینی امریکہ میں ایرانی ایئر لائنز کی سرگرمیوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سفارت خانے نے گذشتہ ہفتے ایرانی فضائی کمپنی کے ایک اہلکار کو گرفتار کرنے کا خیر مقدم کیا ہے۔

اسرائیلی سفارت خانےنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تل ابیب کو لاطینی امریکا میں "مہان ایئر" اور "فارس ایئرقشم" کی سرگرمیوں کے بارے میں تشویش ہے۔

سفارتخانے نے مزید کہا کہ دونوں کمپنیاں ایران کی سمندر پار مسلح کارروائیوں کی ذمہ دار" قدس فورس "کے لیے ہتھیاروں کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ خیال رہے کہ یہ دونوں ایرانی فضائی کمپنیاں امریکی بلیک لسٹ میں شامل ہیں۔

امریکاکی طرف سے "مہان ایئر" پر پاسدارن انقلاب کے ساتھ روابط رکھنے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

اسرائیلی سفارت خانے کے بیان میں "ارجنٹائن کی سیکیورٹی فورسز کی تیز رفتار ، موثر اور مضبوط حرکت کی تعریف کی گئی ، جس نے حقیقی وقت میں ممکنہ خطرہ کا تعین کیا اور ایرانی طیارے کے عملے کے ایک رکن کو گرفتار کیا ہے۔

گذشتہ اتوار کو ایرانی میڈیا نے اطلاع دی تھی کہ ارجنٹائن کی حکومت نے بوئنگ 747 طیارے کو تحویل میں لیا تھا۔ یہ طیارہ ایرانی کمپنی "مہان ایئر" کی ملکیت ہے۔ارجنٹائن کا دعویٰ ہے کہ یہ طیارہ ایرانی سرکاری ملکیتی طیارے کو وینزویلا ایئر لائنز کو لیز پر دیا گیا ہے۔

ارجنٹائن کی حکومت نے امریکی پابندیوں کی تعمیل میں ایرانی "مہان ایئر" طیارے کو روکنے کی تصدیق کی اور بتایا کہ ایرانی فضائی عملے کے ایک رکن کو گرفتار کیا گیا ہے۔

کچھ ایرانی میڈیا نے اطلاع دی کہ طیارہ جس کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ اسے گذشتہ اتوار کو ارجنٹائن میں روکا گیا لیا گیا تھا کا اس کا "مہان ایئر" سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

میڈیا نے "مہان" میں ڈائریکٹر عوامی تعلقات کے حوالے سے بتایا کہ مذکورہ طیارہ وینزویلا کی ملکیت ہے اور اس کا کمپنی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں