انگشترسازی کے موروثی فن کو آگے بڑھانے والے سعودی کاری گر سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

انگشتر سازی کسی دور میں ایک مقبول ہنر سمجھا جاتا تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ کاری گری دم توڑ رہی ہے۔ البتہ سعودی عرب کا مشہور انگوٹھی ساز خاندان اس فن کو نہ صرف زندہ رکھے ہوئے ہے بلکہ وہ اس موروثی آرٹ کو نئی نسل تک منتقل کرنا چاہتا ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے’ یاسر الشریف‘ نے بتایا کہ انگوٹھی سازی ایک پیشہ ہے جو انہیں ان کے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملا۔ انہوں نے اس میراث کو ترک نہیں کیا بلکہ اسے آگے بڑھانے کا عزم کر رکھا ہے۔ یاسر یہ کام گذشتہ چھ دھائیوں سے کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے اجداد مغربی سعودی عرب بالخصوص مدینہ منورہ اور دوسرے علاقوں میں مشہور انگوٹھی ساز تھے۔

یاسر الشریف نے بتایا کہ ان کے والد یوسف الشریف [مرحوم] اور دادا ہاشم الشریف مشہور انگشتری ساز تھے۔ وہ "کاسٹنگ" سے لے کر اس کے مختلف مراحل میں چاندی کی انگوٹھیاں بناتے۔ پتھر کاٹنے سے لے کراس کی پالش اور کاری گری تک وہ سارا کام خود کرتے تھے۔

اس ہنر کی بہ دولت یاسر الشریف کے والد یوسف الشریف کو سعودی عرب کے شیوخ اور اکابر میں غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس فن کی وجہ سے انہیں "سناروں کا شیخ" کہا جانے لگا۔

الشریف نے بتایا کہ میں اپنے والد کواس شعبے میں کام کرتے دیکھ کرجوان ہوا۔میں انہیں انگوٹھیاں بناتے دیکھتا۔ میں ان کے ہنر کی باریکیوں کو جان گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ انگوٹھی کی تیاری کے لیے پتھر کی تشکیل چاندی کے مرکب مرحلے سے شروع ہوتی ہے، جسے ایک خاص درجہ حرارت پر پگھلا کر سانچوں میں ڈالا جاتا ہے۔ اس کے بعد مانگ پر لابس، قیمتی پتھروں اور ہیروں کی تنصیب کی جاتی ہے اور آخر میں انگوٹھی تیار ہونے پر اس کی پالش کی جاتی ہے۔

سعودی زرگر نے کہا کہ زور دے کر کہا کہ میں خالص چاندی اور نایاب قیمتی پتھروں کے انتخاب میں دلچسپی رکھتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک انگوٹھی میں استعمال ہونے والے نگ کی قیمت 200 ریال سے 5 ہزار ریال تک ہو سکتی ہے۔

الشریف کا خیال ہے کہ جوہری کو پتھروں کو جوڑنے، ویلڈنگ کرنے، نصب کرنے اور پالش کرنے کی مہارت حاصل کرنے کے لیے پرجوش، صبر اور برداشت کا مادہ پیدا کرنا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں