ایرانی ملیشیا

ایرانی ملیشیاؤں کے خلاف اسرائیل کے منصوبوں پر امریکا کی نظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک امریکی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل شام میں کیے جانے والے بہت سے فضائی حملوں کے لیے خفیہ طور پر امریکا کے ساتھ ہم آہنگی کر رہا ہے، جہاں اتحادیوں کو ایک ایسے میدان جنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ اور سابق کے مطابق۔ موجودہ اورسابق امریکی حکام نے امریکی ’وال سٹریٹ جرنل‘ کو بتایا کہ شام میں اسرائیلی کارروائیوں کو غیر ملکی فوجوں کی حمایت حاصل ہے۔

امریکی حکام نے اسرائیلی بمباری کے مشن کے بارے میں زیادہ انکشاف نہیں کیا۔ اسرائیل کی ان کارروائیوں کا مقصد لبنانی حزب اللہ کو ایرانی جدید ہتھیاروں کے بہاؤ کو روکنا اور شام میں ایرانی فوجی قوتوں اور اس کے پراکسیوں کو کم کرنا تھا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پردے کے پیچھے بہت سے اسرائیلی مشنز کا جائزہ کئی سال پہلے امریکی سینٹرل کمانڈ اور پینٹاگان میں سینیر حکام کی طرف سے منظوری کے لیے لیا گیا تھا۔

امریکا کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملے اسلامک اسٹیٹ [داعش] کے عسکریت پسندوں کے خلاف امریکی زیر قیادت فوجی مہم میں مداخلت نہ کریں جن کی خود ساختہ خلافت تباہ ہو چکی ہے لیکن اس تنظیم کے شدت پسند واپس آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شام میں اسرائیلی فضائی آپریشنز پرامریکا کی طرف سے خاموشی اختیار کی جاتی رہی ہے۔ ان کارروائیوں کی کھل کرحمایت یا مخالفت نہیں کی گئی تاہم ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ شام میں صہیونی ریاست کی کارروائیوں کو امریکا کی حمایت حاصل ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں کی اکثریت کو امریکا نے منظور کیا تھا۔ امریکی فوج اپنے اہداف کے تعین میں اسرائیلیوں کی مدد نہیں کرتی۔ حکام کا کہنا ہے کہ امریکا شام میں اسرائیل کی تمام کارروائیوں کا جائزہ نہیں لیتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں