روس پر شام میں موجود امریکی اور اتحادی فوج پر حملوں کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی فوجی حکام نے کہا ہے کہ روسی افواج نے رواں ماہ شام میں امریکی قیادت میں قائم عالمی فوجی اتحاد کے خلاف کئی کارروائیاں کیں، جن میں سے ایک رواں ہفتے ملک کے جنوبی حصے میں واقع ایک اسٹریٹجک مقام پر واقع اڈے پر بھی کی گئی۔

روسی اشتعال انگیزیوں نے امریکی فوجی حکام کو خوفزدہ کر دیا ہے جنہیں خدشہ ہے کہ یہ غلط اندازہ شام میں امریکی اور روسی افواج کے درمیان غیر ارادی طور پر تنازعہ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

فروری میں یوکرین میں روس کی فوجی کارروائی اور وہاں روسی افواج کو شکست دینے کے لیے یوکرینی فوج کو مسلح کرنے کی امریکی کوششوں کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان تناؤ پہلے ہی زیادہ ہے۔

بُدھ کے روز روس نے جنوب مشرقی شام میں اردن کے ساتھ شامی سرحد کے قریب التنف بیرکوں پر فضائی حملے کیے، جہاں امریکی افواج ’داعش‘کے دوبارہ ابھرنے سے روکنے کے لیے مقامی جنگجوؤں کی تربیت اور رہ نمائی کا مشن انجام دے رہی ہیں۔

روس نے برسوں پہلے قائم کی گئی ایک کمیونیکیشن لائن کے ذریعے امریکا کو مطلع کیا تھا کہ وہ شامی حکومتی افواج کے خلاف مبینہ حملے کے جواب میں فضائی حملے شروع کر رہا ہے۔ روسی فوج نے شامی افواج کا پہلے بھی بھرپور دفاع کیا ہے۔

ایک امریکی فوجی اہلکار نے بتایا کہ روسی لڑاکا طیاروں کو جن میں دو Su-35S اور ایک Su-24 شامل تھے کو التنف کے اوپر کے علاقے سے گزرتے ہوئے دیکھا گیا۔ انہوں نے وہاں پر موجود اتحادی فوج کی بیرکوں پر جنگی پوزیشن پر بمباری کی۔

امریکی حکام کو حملے کی پیشگی اطلاع کے حوالے سے بتایا کہ روسی فوج فعال طور پر امریکی افواج کو نشانہ نہیں بنا رہی تھی بلکہ شام میں امریکی مشن کو ہراساں کر رہی تھی۔ یہ ایک ایسا حربہ ہے جو اس سے قبل روسی افواج نے استعمال کیا تھا جس نے دونوں ممالک کو برسوں کے دوران رابطوں کو تیز کرنے پر اکسایا تھا۔

بدھ کے حملوں کے وقت امریکی فوجی دستے بیس کے قریب نہیں تھے، جس کی اطلاع CNN نے پہلے دی تھی۔ حملے کے نتیجے میں کوئی امریکی یا اتحادی فوج کا جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن اس آپریشن میں وہ نمایاں تھا جسے ایک امریکی فوجی اہلکار نے اس ماہ "اشتعال انگیزی میں نمایاں اضافہ" قرار دیا۔

شام میں موجود امریکی اور روسی فوجی
شام میں موجود امریکی اور روسی فوجی

اس ہفتے بھی روسیوں نے دو Su-34 لڑاکا طیارے اس مقام پر تعینات کیے جہاں امریکا داعش کے بم بنانے والے کو پکڑنے کے لیے شمال مشرقی شام میں چھاپہ مار رہا تھا۔ امریکی فوجی حکام نے کہا کہ جب امریکا نے اپنے F-16 لڑاکا طیاروں سے روسی طیاروں کو علاقہ چھوڑنے کی تنبیہ کی تو وہ واپس چلے گئے۔

شام کے علاقے التنف میں 200 کے قریب امریکی اور دوسرے ملکوں کے فوجی تعینات ہیں جو ’داعش‘ کی سرکوبی کے لیے وہاں پر کام کر رہے ہیں۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ شام میں تقریباً 900 امریکی فوجی موجود ہیں۔ التنف کے علاوہ امریکی افواج ملک کے مشرقی سیکٹر میں شامی کرد فورسز کو تربیت اور مشورہ دیتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں