اسرائیلیوں پرحملے کے لیے’دہشت گرد‘بھیجنے والوں کو قیمت چکاناپڑے گی:نفتالی بینیٹ

ہم اس وقت بیرون ملک مختلف مقامات پرایران کی طرف سے اسرائیلیوں پرحملے کی کوششیں مشاہدہ کر رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے ایران کو’’دہشت گرد حملوں‘‘میں بیرون ملک اسرائیلیوں کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کے خلاف خبردارکیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ جو کوئی بھی اس طرح کے حملوں کی منصوبہ بندی کی کوشش کرے گا،اس کوقیمت چکانا پڑے گی۔

بینیٹ نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا کہ ہم اس وقت بیرون ملک مختلف مقامات پرایران کی طرف سے اسرائیلیوں پرحملے کی کوششوں کومشاہدہ کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سکیورٹی سروسز حملوں کے آغاز سے قبل انھیں ناکام بنانے کے لیے کام کررہی ہیں۔ ہم دہشت گردوں کو بھیجنے والوں پرحملے جاری رکھیں گے۔انھوں نے خبردار کیاکہ ’’ہم دہشت گردوں کو بھیجنے والوں پر حملے جاری رکھیں گے‘‘۔ان کا اشارہ ایران کی جانب تھا۔

انھوں نے اسرائیلیوں کو ان کے تحفظ کے پیش نظرترکی کا سفر کرنے سے بھی خبردار کیا اور اسرائیلی شہریوں کو متنبہ کیاکہ اگر ضروری نہ ہو تواس وقت ترکی خصوصاً استنبول جانے سے گریزکریں۔ خطرہ اب بھی بڑا ہے۔ میں اسرائیل کے شہریوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ذاتی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور اپنی سلامتی کا تحفظ کریں‘‘۔

گذشتہ ہفتے اسرائیل نے ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے کرنل صیادخدائی کے قتل کے بعدایران کے ممکنہ ’’انتقامی حملوں‘‘کے خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے شہریوں کو ترکی کا سفر اختیار نہ کرنے کی تنبیہ کی تھی۔

اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے کان ریڈیو نے گذشتہ ہفتے خبردی تھی کہ سکیورٹی حکام نے مئی میں ترکی میں اسرائیلیوں کو نشانہ بنانے کے لیے ممکنہ حملے کی سازش کو ناکام بنا دیا تھا۔

حالیہ ہفتوں کے دوران میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔اسرائیل نے مبیّنہ طور پراایران کے فوجی اہلکاروں ،حکام اور ملک کے جوہری پروگرام سے وابستہ سائنس دانوں کو نشانہ بنایا ہے اور ایران انتقام میں بیرون ملک اسرائیلیوں کو نشانہ بنانے کے لیے جوابی کارروائیاں کررہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں