غربِ اردن میں اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے فلسطینی ادھیڑعمرشخص شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے میں سکیورٹی بیریئرعبورکرنے کی کوشش کرنے والے ایک فلسطینی کارکن کو گولی مار کرشہید کردیا ہے۔

فلسطینی وزارت صحت نے اتور کو شہید ہونے والے شخص کی شناخت 53 سالہ نبیل غانم کے نام سے کی ہے۔ان کا تعلق مغربی کنارے کے شہرنابلس سے تھا۔

فلسطین کی سرکاری خبررساں ایجنسی وفا نے بتایا کہ غانم مغربی کنارے سے تعلق رکھنے والے ان ہزاروں فلسطینیوں میں شامل تھے جو باقاعدگی سے اسرائیل میں کام کے لیے جاتے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ فورسز نے ’’ایک مشتبہ شخص پرگولی چلائی ہے۔اس نے حفاظتی باڑ کوتوڑاتھا‘‘۔

غربِ اردن سے تعلق رکھنے والے فلسطینی مزدوراسرائیلی فارموں اورتعمیراتی مقامات پرکام کرتے ہیں۔انھیں وہاں مغربی کنارے میں فلسطینی آجروں کے مقابلےمیں زیادہ اُجرت ملتی ہے۔ غربِ اردن سنہ1967 سے اسرائیل کے زیر قبضہ ہے۔

اسرائیل کے مختلف شہروں اور علاقوں میں بہت سے فلسطینی ملازمتیں یا روزانہ اُجرتے پر کام کرتے ہیں اور ان کا یہ روزگار کا اہم ذریعہ ہیں۔ان میں بہت سوں کے پاس اسرائیل میں کام کرنے کے اجازت نامے ہیں جبکہ کچھ بغیراجازت کے سرحدی گذرگاہیں عبورکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مارچ کے آخرسے فلسطینیوں اوراسرائیلی عربوں کے حملوں میں انیس اسرائیلی ہلاک ہوچکے ہیں۔ان میں زیادہ تر اسرائیلی شہری ہیں۔اسرائیل کے اندرحملوں میں اٹھارہ یہودی ہلاک ہوئے تھے اورایک یہودی آباد کارغربِ اردن میں مارا گیا تھا۔

اسرائیلی سیکورٹی فورسز نے اسرائیل کے اندراور مغربی کنارے خصوصاًجینین اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں چھاپا مارکارروائیاں کی ہیں۔ ان میں تین اسرائیلی عرب حملہ آوراورایک اسرائیلی پولیس کمانڈو ہلاک ہوگیا تھا۔

مغربی کنارے میں حالیہ مہینوں میں صہیونی فورسز کی کارروائیوں میں پینتالیس فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ان میں مزاحمت کاراورغیرجنگجودونوں شامل ہیں۔ان میں الجزیرہ ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی معروف نامہ نگار شیرین ابوعاقلہ بھی شامل تھیں۔انھیں جینین میں صہیونی فورسز کی چھاپامارکارروائی کی کوریج کے دوران میں گولی مار دی گئی تھی۔

جینین میں گذشتہ جمعہ کو بھی اسرائیلی فوج نے چھاپامار کارروائی کی تھی۔ اس میں تین فلسطینیوں کی شہادت کے بعد سے غربِ اردن میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی اضافہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں