.

اسرائیل میں قبل ازوقت انتخابات پراتفاق، یائرلاپیڈ عبوری وزیراعظم ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ اور ان کے اتحادی شراکت دار وزیرخارجہ یائر لاپیڈ نے اگلے ہفتے پارلیمان (الکنیست)کو تحلیل کرنے اور قبل از وقت انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔پارلیمان کے تحلیل ہونے کے بعد وزیرخارجہ یائرلاپیڈ وزیراعظم ہوں گے۔

وزیراعظم بینیٹ کی حکومت کا خاتمہ امریکی صدر بائیڈن کے دورۂ اسرائیل سے ایک ماہ سے بھی کم عرصہ قبل ہورہا ہے۔بینیٹ اور لاپیڈ کے درمیان باری باری کی حکومت کے معاہدے کے تحت ایک بارالکنیست کے تحلیل ہونے اور انتخابات کے اعلان کے بعد لاپیڈ قائم مقام وزیر اعظم بن جائیں گے۔

لاپیڈ وزیرخارجہ کے عہدے پر بھی برقرار رہیں گے جبکہ بینیٹ متبادل وزیراعظم بنیں گے اور عبوری حکومت میں ایران فائل کے نگران ہوں گے۔

بینیٹ حکومت کا خاتمہ اس بات کا مزید ثبوت ہے کہ 2019 سے اسرائیل جس سیاسی بحران سے دوچار ہے، وہ اب بھی زندہ ہے کیونکہ اسرائیل میں چار سال کے اندرپارلیمان کا یہ پانچواں انتخاب ہوگا۔

بینیٹ اور لاپیڈ نے حالیہ ہفتوں میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو منظم کرنے والے قانون کی تجدید کی کوشش کی ہے۔بینیٹ کی پارٹی کے ایک رکن نیر اورباچ نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ اتحاد چھوڑ رہے ہیں کیونکہ اس قانون کی تجدید نہیں کی گئی ہے۔

بینیٹ نے دائیں بازو کے قانون ساز اور قریبی اعتماد رکھنے والے اورباخ پر اتحاد میں رہنے کے لیے زورڈالا تھا لیکن وہ انھیں قائل کرنے میں ناکام رہے۔ دونوں کے درمیان آخری ملاقات میں اورباخ نے بینیٹ کو الٹی میٹم دیا تھا کہ اگر’’تصفیے کا قانون‘‘ایک ہفتے کے اندر پاس نہیں ہوا تو وہ انتخابات کرانے کے مطالبے کے حق میں اپوزیشن کے ساتھ ووٹ دیں گے۔

پس پردہ: اتحاد کے دو سینیر ذرائع کے مطابق، بینیٹ نے ہی یہ سمجھنے کے بعد اس اقدام کا آغاز کیا تھا کہ وہ قانون منظور نہیں کر سکتےاور وہ اورباخ کو اتحاد کی حمایت جاری رکھنے پر قائل نہیں کرسکے۔

ذرائع نے بتایا کہ بینیٹ اورلاپیڈ نے اپنے نقصانات کے ازالے کے لیے اس اقدام کا فیصلہ کیا،بجائے اس کے کہ اس کو طول دیاجائے اوراس عمل میں مزید سیاسی حمایت کھو دی جائے۔

توقع ہے کہ یہود کی مذہبی تعطیلات کے بعد اکتوبر کے آخر میں انتخابات منعقد ہوں گے۔قائم مقام وزیراعظم کی حیثیت سے لاپیڈ ہی اگلے ماہ صدربائیڈن کا ان کی ہوائی اڈے پرآمد پر خیرمقدم کریں گے۔اسرائیل میں امریکی سفیر ٹام نائیڈز نے بتایا کہ’’صدر بائیڈن کا دورہ طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوگا‘‘۔

گذشتہ سال مسٹربینیٹ نے ایک محدود اورنظریاتی طور پر متنوع اتحاد تشکیل دیا تھا۔یہ دائیں بازو، لبرل اور عرب جماعتوں پر مشتمل تھا۔اس کے بعد سے ان کی مخلوط حکومت نازک رہی ہے۔مسٹر بینیٹ پارلیمنٹ کی 120 نشستوں میں سے صرف 59 کی حمایت رکھتے ہیں۔

توقع ہے کہ مخلوط حکومت اگلے ہفتے تک رضاکارانہ طور پر خود کو تحلیل کرنے کا بل پیش کرے گی جس سے اسرائیل کی 36 ویں حکومت مؤثر طور پر ختم ہو جائے گی اور نئے انتخابات کے انعقاد کا عمل شروع ہو جائے گا۔

مسٹر لاپیڈ اور مسٹر بینیٹ دو سال کے سیاسی تعطل کے بعد گذشتہ سال جون میں اپنا غیر امکانی اتحاد تشکیل دینے میں کامیاب رہے تھے۔اس سے سابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہوکی ریکارڈ مدت ملازمت ختم ہوگئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں