سعودی عرب میں قربانی کے جانوروں کی فول پروف جانچ پڑتال

سعودی وزارت ماحولیات نے حج سیزن کی تیاری کیسے کی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کی وزارتِ ماحولیات، پانی اور زراعت سے وابستہ سات ٹیموں نے مقدس دارالحکومت [مکہ معظمہ] کے داخلی راستوں پرویٹرنری ڈاکٹروں، ویٹرنری اسسٹنٹس اور ایڈمنسٹریٹرز کے خصوصی کیڈرز کے ذریعے چوبیس گھنٹے کام کرنا شروع کیا ہے تاکہ قربانی کے لیے لائی جانے والی بھیڑبکریوں کی حفاظت اور ذرائع کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ مویشی منڈیوں، ایمرجنسی اور سپورٹ، اور امارات مکہ المکرمہ ریجن میں چارفیلڈ ویٹرنری ٹیمیں مقررکی گئی ہیں۔

مکہ کے علاقے میں وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کی شاخ کے ڈائریکٹر جنرل انجینیرسعید الغامدی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ یہ ٹیمیں الكعكيہ، پرانے الشميسى،النواريہ، الهدا البهيتہ ،الجعرانة اورالحسينيہ میں متعین ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ویٹرنری ٹیمیں مویشیوں کی ویٹرنری جانچ پر کام کرتی ہیں۔ زراعت اور جانوروں کی بہبود کے نظام کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کرتی ہیں۔ ویٹرنری دفاتر اور سپورٹ ٹیموں کی طرف سے جاری کردہ ہیلتھ سرٹیفکیٹ کی تصدیق کرتی ہیں اور مویشیوں کے پلیٹ فارم پر چھوڑے گئے مویشیوں کی ریکارڈ تعداد کی بھی جانچ پڑتال کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ حج کے موسم کے دوران مناسب اور ماحول دوست آلات کا استعمال کرتے ہوئے 14 ٹیمیں ماحولیاتی صفائی کی سطح کو بلند کرنے اور بیماریوں کے ویکٹر سے نمٹنے کے لیے اپنا حصہ ڈالیں گی۔

نمونوں کی چیکنگ

ایک سوال کے جواب میں سعید الغامدی نے کہا کہ مکہ معظمہ میں وزارت ماحولیات کے زیراہتمام ایک لیبارٹری قائم کی گئی ہے جو جدہ اسلامی بندرگاہ کے ذریعے موصول ہونے والے جانوروں اور پودوں کی کھیپ کے نمونوں کی جانچ کرتی ہے تاکہ ان کی صحت کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔نمونوں کی جانچ کا مقصد امراض اور سرحد پار سے آنے والی بیماریوں کے داخلے کو محدود کرنے کے علاوہ جانوروں کی بیماریوں کی تشخیص کرنا،اسانوں اور جانوروں کے درمیان عام بیماریوں کے ساتھ ساتھ مکہ کے علاقے میں وبائی امراض کے سروے اور تحقیقات کے کام میں لائیو سٹاک ایجنسی کی مدد کرنا ہے۔

مویشی منڈی کی طلب

انہوں نے وضاحت کی کہ وزارت ماحولیات نے رواں سال حج کے سیزن کے دوران مویشیوں کی مقامی منڈی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے اپنے منصوبے پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے، کیونکہ مکہ مکرمہ کے علاقے میں وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کی شاخوں نے 560,000 سے زائد مویشی رکھے ہیں۔ توقع ہے کہ اگلے دو ہفتوں کے دوران 800,000 سے زیادہ بھیڑبکریاں لائی جائیں گی۔

اُنہوں نے نشاندہی کی کہ جدہ کی اسلامی بندرگاہ کے ذریعے سعودی عرب آنے والے جانوروں کی واضح کھیپ میں تقریباً 560,000 مویشی لائے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں