.

نجران کے ڈاکٹر جن کی کوشش سے بہرے پن کا شکار بچہ سماعت کے قابل ہوگیا

ننھے وجدی کی سرجری کرنے والے ڈاکٹر علی قناص کی العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خوشی اور مسرت کے آنسوؤں کے ساتھ طبی ٹیم نے نجران کے کنگ خالد اسپتال میں بچے وجدی کے کوکلیئر امپلانٹیشن آپریشن کی کامیابی کا خیرمقدم کیاجس کے بعد وجدی جو کہ سماعت سے بالکل محروم تھا اب وہ اچھی طرح سن سکتا ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کنسلٹنٹ ’ای این ٹی‘ سرجن ڈاکٹرعلی قناص نے ان لمحات کو ناقابل فراموش قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ نازک اوقات توقعات سے بھرے ہوئے تھے۔

مفت کے لیے مہنگا عمل

ڈاکٹر قناص سے اس علاج کے اخرابات کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ اچھا خاص مہنگا علاج ہے تاہم سعودی عرب میں اس طرح کے عوارض کا علاج مفت ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سرجری خصوصی ضروریات والے لوگوں کی زندگی کو معمول میں بدلنے میں غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 4 سالہ وجدی دونوں کانوں میں مکمل پیدائشی بہرے پن میں مبتلا تھا جس کی وجہ سے وہ بولتا بھی کم تھا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ علاج کا آغاز کوکلیئر کے ’سی ٹی اسکین‘ کے ذریعے کیا گیا تھا تاکہ اس کی سالمیت اور سمعی نہر اور دماغ کے مرکز کی سالمیت کو ثابت کیا جا سکے اور اس کی پیوند کاری کی تیاری کی جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ 3 ماہ کی بحالی کے بعد آپریشن مکمل ہوا اور یہ کامیاب رہا۔

اُنہوں نے بتایا کہ آپریشن کامیاب رہا اور نجران میں ہونے والا یہ اس نوعیت کا پہلا آپریشن تھا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مملکت میں اس طرح کے آپریشنز کی کامیابی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے طبی عملے اور مملکت کے لوگوں کے لیے دستیاب علاج کے امکانات کی تعریف کی۔

یہ قابل ذکر ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بہرے پن کے علاج کے مراحل سےگذرنے والا بچہ وائرل رہا ہے۔ بچے کو اسپتال کے دالان میں ہنستاے دیکھا گیا۔ وہ برسوں بہرے پن کے بعد جب سرجری کے بعد پہلی بار سماعت کے قابل ہوا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔

نجران کے کنگ خالد اسپتال میں کوکلیئر امپلانٹ آپریشن کے بعد وجدی نے پہلی بار سماعت کے احساس کا تجربہ کیا۔ وہ یہ احساس بچپن سے کبھی نہیں جانتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں