.

’ڈاکٹر فوری طبی امداد دیتے تو یاسمین کی جان بچ جاتی‘

ڈاکٹروں کے انکار پرایک سالہ لبنانی بچی اسپتال کے گیٹ پر دم توڑ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے شمالی علاقے بحجہ میں اسپتالوں کی طرف سے ایک سال کی بچی کے علاج کی سہولت نہ ملنے اور بچی کی موت پر جہاں اس کے والدین صدمے سے نڈھال ہیں وہیں عوامی حلقوں کی طرف سے اسپتالوں کی انتظامیہ کے خلاف شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

واقعے کے سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد شہریوں نے اسپتالوں کی انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مجاز حکام سے غفلت برتنے وال ڈاکٹروں اور اسپتال انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق شدید بیماری کی حالت میں ایک سالہ ننھی یاسمین المصری کو اسپتال لایا گیا مگرمتعدد اسپتالوں کی انتظامیہ نے یہ کہہ کر علاج سے انکار کردیا کہ ان کے ہاں چلڈرن وارڈ نہیں ہے۔ یاسمین کو بانہوں میں اٹھائے اس کی ماں بے بسی کی کیفیت میں ایک اسپتال کے گیٹ پر پہنچی تو بچی وہاں دم توڑ گئی۔ علاج کی سہولت سے محروم رہتے ہوئے فوت ہونے والی بچی کا والد اور اس کا دادا بھی وہاں موجود تھے مگر وہ سب اس ننھی جان بچانےکے لیے کچھ نہ کرسکے۔

شمالی لبنان کے طرابلس اور ضنیہ کے متعدد اسپتالوں کے درمیان بچی کے اہل خانہ اسے داخل کروانے کے لیےچکر لگاتے رہےلیکن انہیں پیڈیاٹرک سیکشن نہ ملا اور اس دوران یاسمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا تھا اور اس کا پیٹ بہت سی سوزشوں سے پھولا ہوا تھا۔

بچی کے دادا ابو احمد شما نے جو اپنی پوتی کے ساتھ اس کے آخری اوقات میں تھےنے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ "یاسمین کو تیز بخار، اسہال اور قے کی شکایت تھی اور ہم نے اسے شمالی گورنری کے کئی اسپتالوں میں لے کر پھرتے رہے، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ہم بچی کو شمال میں ہیکل اسپتال لے گئے مگر اسپتال انتظامیہ نے بچی کے ضروری ٹیسٹوں کے لیے ایک ہزار ڈالر کی خطیر رقم مانگی۔ ہمارے پاس اتنی رقم نہیں تھی۔ اس لیے ہم مجبورا بچی کو ایک اور اسپتال میں لےکر گئے۔ ابھی وہ اسپتال کے گیٹ پرپہنچے تھے کہ بچی نے آخری ہچکی لی اور پھر وہ دم توڑ گئی۔

شما نے اپنی پوتی کی موت کی تمام تر ذمہ داری شمالی لبنان کے ہیکل ہسپتال کی انتظامیہ پر عاید کی جنہوں نے بچی کو فوری طبی امداد دینے کے بجائے والدین سے خطیر رقم مانگ کر انہیں وہاں سے نکال دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈاکٹر یاسمین کو فوری طبی امداد دیتا تو اس کی جان بچ جاتی۔

یاسمین کے اہل خانہ کو درپیش مالی رکاوٹوں کے سامنے ہمت نہیں ہاری لہٰذا وہ اسے اپنے ڈاکٹر کے پاس لے گئے جنہوں نے اس کی حالت دیکھی۔اس نے بچی کا معائنہ کیا۔اس کا درجہ حرارت زیادہ تھا۔ ڈاکٹر نے بچی کو فورا بیروت لے جانے کا مشورہ دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں