.

اردنی فرمانروا نے شہزادہ محمد بن سلمان کو تمغہ حسین ابن علی کیوں عطا کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

منگل کی شام اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود کو ’حسین بن علی میڈل‘ پیش کیا، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تاریخی تعلقات کا ایک مجسمہ ہے۔

تمغہ ہاشمی سلطنت اردن میں سب سے زیادہ قیمتی سول ایوارڈ ہے جو بادشاہوں، شہزادوں اور سربراہان مملکت کو دیا جاتا ہے۔

’حسین بن علی میڈل‘ اُردن کے اعلیٰ ترین اعزازات میں سے ایک ہے۔ یہ ان بادشاہوں، شہزادوں اور سربراہان مملکت کو دیا جاتا ہے جن کے بادشاہ کے ساتھ مضبوط اور ممتاز تعلقات استوار ہیں۔

سنہ 2017 میں شاہ عبداللہ دوم نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو "شریف الحسین بن علی" میڈل عطا کیا، جو کہ بادشاہوں اور سربراہان مملکت کو دیا جانے والا اردن کا بڑا خوبصورت سول ایوارڈ ہے۔

تمغے کا نام

شریف مکہ شاہ حسین بن علی کی نسبت سے تیار کردہ "تمغہ الحسین بن علی " اردن کی ہاشمی سلطنت میں گھڑ سواری کا سب سے بڑا ٹائیٹل ہے۔جسے شاہ عبداللہ اول بن الحسین نے 22 جون 1949 کو خیراتی شعبوں اور غیر ملکی سربراہان مملکت کو انعام دینے میں مستحق کارکنوں کو یہ انعام دینے کےلیےقائم کیا تھا۔

جہاں تک اسکارف کا تعلق ہےتو اسے شاہ حسین بن طلال نے 23 ستمبر 1967 کو پیش کیا تھا۔ فی الحال یہ تمغہ شاہ عبداللہ دوم بن الحسین ان لوگوں کو دیتے ہیں جو اخلاقی امداد یا عوام کی خدمت میں رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہیں۔ میڈل ڈگریوں میں پیش کیا جاتا ہے جہاں اسے سکارف اور کالر کے ساتھ یا صرف اسکارف کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔

تمغہ کیسے تیار کیا جاتا ہے؟

اردن کے بادشاہ کی طرف سے سعودی ولی عہد کو جو عطا کیا گیا اعزاز سونے کی ڈبل زنجیروں سے تیار کردہ بیج میں پانچ ستارے ہوتے ہیں اور عربی اونٹ کے ساتھ سونے سے مزین چھوٹے سرخ پھول بنائے جاتے ہیں۔

یہ بیج بیضوی شکل میں سونے اور ہیروں سے بنایا جاتا ہے۔ اس کے بیچ میں ایک سرخ ڈسک کے ساتھ عربی میں ایک جملہ لکھا ہوا ہے اور بیج کو اسکارف کے ساتھ سنہری شاہی تاج سے جوڑا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں