.

اسرائیلی پارلیمنٹ کے اگلے ہفتے میں ٹوٹنے کا امکان

نئے انتخابات ستمبر اور نومبر کے درمیان متوقع ۔ کرپشن الزامات والے یاہو کے خلاف قانون سازی کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل چار سال سے کم عرصے میں پانچوٰیں عام انتخابات کے مزید قریب ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ کے ارکان نے بدھ کے روز متفقہ طور پر نئے انتخابات کے حق میں ووٹ دیا۔ امکانی طور پر اب آنے والے ہفتے میں پارلیمنٹ توڑنے کا بل پیش کیا جاسکے گا۔ جس کے بعد موجودہ وزیر خارجہ 58 سالہ یائر لیپڈ کو نگران وزیر اعظم بنا دیا جائے گا۔

یائر لیپڈ اور موجودہ وزیر اعظم نیفتالی بیننٹ نے ایک سال پہلے نیتن یاہو سے ایک ایسے اتحاد کے ذریعے حکومت ھاصل کر لی تھی جو اتحاد عام طور ممکن نہیں ہوتا ہے۔ یاہو مخال اتحاد میں انتہائی دائیں بازو کے لوگ، لبرلز اور عرب نمائندے سب اکٹھے ہو گئے تھے۔ یہ ایک سیاسی ملغوبہ سا بن گیا تھا۔ مگر پچھلے ماہ اس میں دراڑ آگئی۔ نتیجتا مخلوط حکومت کا جاری رہنا مشکل ہو گیا کہ اب اس کے پاس اکثریت نہیں رہی ہے۔

متوقع نگران وزیر اعظم یائر لیپڈ کہا کہنا ہے کہ '' آنے والے انتخابات اعتدال پسند یہودیوں اور انتہا پسند نیتین یاہو کے درمیان جنگ کے مترادف ہوں گے۔ '' واضح رہے نیتن یاہو اس وقت اپوزیشن لیڈر ہے۔ یاہو کے بقول '' کثیر الجماعتی مخلوط حکو مت اسرائیلی تاریخ کی بد ترین حکومت رہی اور اب یہ اپنے انجام کو پہنچ رہی ہے'' ۔ 72 سالہ یاہو کو بڑی امید ہے کہ چھٹی بار بھی جیت کر وزیر اعظم بننا مشکل نہ ہوگا۔

منگل کے روز شائع ہونے والے عوامی اور سیاسی جائزوں میں بتایا گیا ہے کہ یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور اس کے ممکنہ ہم خیالوں یا اتحادیوں کی اگلے انتخابات میں جیت کا امکان زیادہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود 120 ارکان پر مشتمل پارلیمنٹ میں کسی جماعت کو واضح اکثریت ملنے کا امکان نہیں ہے۔

نیتن یاہو کے حریف اس معاملے میں مصر ہیں کہ وہ نیتن یاہو کو اقتدار میں آنے سے ہر صورت روکیں گے کہ اس کے خلاف کرپشن الزامات ہیں۔ تاہم نیتن یاہو کے نزدیک الزامات غلط ہیں۔ مخلوط حکومت سے متعلق قانون ساز اس بارے میں قانون سازی کرنے کو بھی تیار ہیں کہ کسی طرح یاہو کو روکا جائے۔ کیونکہ یاہو کے خلاف جرائم کی وجہ سے فرد جرم عائد ہو چکی ہیں۔

تاہم نیفتالی بیننٹ کا اس بارے میں اتفاق نہیں کہ قانون سازی کے ذریعے یاہو کو روکا جائے۔ بیننٹ کے خیال میں یہ معاملہ عوام اور ووٹر پر چھوڑا جانا چاہیے کہ وہ کس کو اگلا وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب لیپڈ کے نزدیک اگر اسرائیل پر لبرل ڈیمو کریٹس کی حکومت رہی تو یاہو سمجھتا ہے کہ وہ ا پنے خلاف ٹرائل کو منسوخ نہیں کرا سکے گا۔ "اس لیے ہمارا مشن یہ ہے کہ اسرائیل میں ایسے لوگوں کو حکومت میں نہیں آنے دینا جو جمہوریت کو ہی کچل کر رکھ دیں۔"

لیپڈ کے ان خیا لات کے بارے میں یاہو کا کہنا ہے کہ "نیتن یاہو کے زیر قیادت صرف دائیں بازو کی حکومت ہی اسرائیل کو اس کے اصل راستے پر رکھ سکتی ہے۔" توقع کی جارہی ہے کہ اگلے عام انتخابات ستمبر سے نومبر کے درمیان منعقد ہو سکیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں