.

’بیوی سے کہا کہ مُجھے فجر کو جگانا، مگر وہ فجر سے قبل ہی ابدی نیند سوچکا تھا‘

لاس اینجلس میں سعودی فلائٹ اٹینڈنٹ کی ناگہانی موت کی المناک کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ایک نوجوان فلائیٹ اٹینڈنٹ قصی العمودی کی امریکی ریاست لاس اینجلس میں رات کو ہوٹل میں قیام کے دوران موت پر ہرآنکھ اشکبار ہے۔ العمودی کی ناگہانی موت کی خبر پر سوشل میڈیا پربھی سوگوارخاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

العمودی لاس اینجلس میں نیوی گیٹرزہوٹل میں رات کے وقت حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے تھے۔ اگلی صبح انہیں امریکا سے سعودی عرب کے شہر جدہ کے لیے روانہ ہونا تھا۔

حادثے کی تفصیلات کے بارے میں فضائی میزبان قصی کے عزیز رضا العمودی نے بتایاکہ قصی جدہ جا رہے تھے اوراپنی موت سے ایک دن پہلے انہوں نے اپنی اہلیہ سےکہا تھا کہ وہ اُنہیں فجر کی نماز میں فون کرکے جگا دے۔ بیوی نے صبح کے وقت جب فون کیا تو العمودی کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا۔ وہ دن بھر ظہر تک اسے فون ملاتی رہی مگر کوئی جواب نہ ملتا۔ جب عمودی کی طرف سے فون نہ اٹھانے پر اس کی اہلیہ کو تشویش لاحق ہوئی تو اس نے عمودی کے دوستوں کو جو لاس اینجلس میں اس کے ساتھ تھے کو صورت حال سے مطلع کیا۔ وہ قصی العمودی کے ہوٹل کے کمرے میں گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ عمودی سوتے سوتے حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرچکےتھے۔

رضا العمودی نے بتایا کہ قصی ایک مہربان، با اخلاق اور محبت کرنے والا نوجوان تھا۔

امریکا سے قصی العمودی کی لاش لائی گئی۔ گذشتہ روزان کی نمازجنازہ جدہ کی الثنیان مسجد میں نماز ظہر کے بعد ادا کی گئی جس کے بعد انہیں الرویس قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں