.

ضرورت پڑنے پر ہم بیروت سمیت لبنانی شہروں میں داخل ہو سکتے ہیں: بینی گینٹز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے خبردار کیا ہے کہ ’’اگر ضروری ہوا تو ہم [اسرائیلی] جنگ کے لیے تیار ہیں جس میں دنیا ہمیں ایک مرتبہ پھر لبنان کے شہروں بیروت، صیدا اور صور [[tyre کی سڑکوں پر مارچ کرتا دیکھے گی۔‘‘

بینی گینٹز نے دھمکی بدھ کے روز پوسٹ کی جانے والی سلسلہ وار ٹوئیٹس میں دی ہے، جس میں انہوں نے بڑھک ماری ہے کہ کسی امکانی فوجی کارروائی کی صورت میں وہ لبنان کا نئے سرے سے محاصرہ کر کے حزب اللہ کو بھاری نقصان پہنچائیں گے۔

گینٹز نے پہلی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ’’میں 06 جون 1982 کو لڑی جانے والی لبنان جنگ کی یاد میں ہونے والی ایک تقریب میں پہنچا ہوں۔ اس جنگ میں اسرائیل، بیروت تک جا پہنچا تھا۔ العربیہ نیٹ پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیل نے بیروت کا بری اور بحری محاصرہ 88 دنوں تک جاری رکھا۔ اس کے بعد بیروت میں موجود 12 ہزار مزاحمتی کارکنوں کے بیروت سے بیدخلی کے بعد اسرائیل نے علاقے کا محاصرہ ختم کیا۔‘‘

صہیونی وزیر دفاع نے ایک ٹویٹ میں بتایا ’’کہ اگر ہمیں آج لبنان میں فوجی کارروائی کے لیے کہا گیا تو وہ زیادہ سخت اور تیر بہ ہدف ہو گی۔ حزب اللہ اور لبنان کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنا ہو گی۔ یہ دہشت گرد اپنے کسی انفراسٹرکچر کو ہمارے یا اسرائیلیوں کے خلاف اقدام کے لیے استعمال کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

سمندری سرحد

انہوں نے کئی بار یہ بات زور دے کر دہرائی ’’کہ ہماری جنگ لبنانی عوام کے ساتھ نہیں انہوں نے کئی بار ہماری مدد کی۔ آگے بڑھنے کا ایک راستہ ضرور موجود ہے، جس پر دلیری سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔‘‘

انہوں ایک مرتبہ پھر کہا ’’کہ اسرائیل جنگ نہیں چاہتا۔ ہم امن اور مصالحت کی راہ پر چلنا چاہتے ہیں، جہاں تک اسرائیل اور لبنان کی سمندری حدود کا تعلق ہے، اس کا تعین ہم جلد چاہتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سمندری حدود کا فیصلہ لبنان کے لئے لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔‘‘

اسی طرح اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ بھی رواں ماہ ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ ’’لبنان اور اسرائیل کے درمیان کوئی لاینحل تنازع موجود نہیں اور نہ ہی کوئی ایسا امر دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان موجود ہے۔

’’ہماری لڑائی لبنان پر مسلط کردہ ایرانی اثر ونفوذ کے خلاف ہے۔ ایرانی حکومت ایک تسلسل کے ساتھ لبنان میں نفرت، دکھ اور مصائب کی آبیاری کر رہی ہے اور تہران مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر عدم استحکام کی کوششوں میں مصروف ہے۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں