’بچوں میں انعامات کی تقسیم نے سعودی اُستاد کو ’ہیرو‘ بنا دیا‘

معلم محمد عبدالوھاب کی بچوں میں سائیکلیں تقسیم کرنے کی ویڈیو وائرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے سوشل میڈیا پرگذشتہ کچھ دنوں سے ایک استاد اوراس کے شاگردوں کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ’شاگرد دوست‘ استاد کواپنے طلبہ میں سائیکلیں اور دیگر انعامات تقسیم کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو کوعوامی حلقوں کی طرف سے بے حد پسند کیا گیا اور استاد کی تعریف کی گئی ہے۔

استاد محمد العبدالوہاب کویہ توقع نہیں تھی کہ تعیناتی کے پہلے سال کے بعد انہیں پرائمری اسکول میں جب پڑھانے کو کہا جائے گا تو وہ اپنے طلبا میں سائیکلیں بھی تقسیم کریں گے۔

اگرچہ اُنہوں نے اسلامیات کے مضمون میں تعلیم حاصل کی لیکن اسکول کو عربی زبان کے استاد کی ضرورت تھی۔اس لیے انہیں اس مضمون کے لیے بطور استاد منتخب کیا گیا اوراُنہیں پہلی جماعت کے طلبہ کی پڑھائی کی ذمہ داری سونپی گئی۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے ایک انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ پہلے دن سے میں روایتی طورپر پرائمری اسکول کے پہلے درجے میں کامیابی کے بعد میں نے طلباء میں متعدد تحائف اور سائیکلیں تقسیم کرنا شروع کیں۔

اُنہوں نے کہا کہ میں اپنے طالب علموں کو سال کے آغاز سے بتاتا رہا ہوں کہ وہ خود کو انعام لینے کی تیار کریں۔ جو کوشش کرے گا، صحیح طریقے سے پڑھنا لکھنا سیکھے گا، اسےسال کے آخر میں "مٹھائی کے علاوہ ایک سائیکل،گیند اور کلائی گھڑی" کا تحفہ ملے گا۔ یہ بچوں کو محنت کی طرف راغب کرنے کی کوشش تھی جو کامیاب رہی۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ اس سال ان کے طلباء کی تعداد 30 تھی لیکن انہوں نے تیسری جماعت کے 32 طلباء کو بھی انعامات سے نوازا، کیونکہ وہ 2020 میں کرونا کی وبا کے دوران ان کے طلباء میں شامل تھے مگر وہ اس وقت انہیں انعامات دینے کے قابل نہیں تھے۔ اس لیے انہوں نے اس سال انہیں اپنے طلباء کے ساتھ اکٹھا کیا اور انہیں 62 سائیکلیں دیں۔

استادعبدالوھاب نے کہا کہ بچوں کو انعامات دینا میری پرانی روٹین تھی۔ میں آبائی علاقے شقرا میں ایک اسکول میں پڑھاتا تھا وہاں بھی میں اسکول کے بچوں کو تعلیم کی ترغیب دینے کے لیے انہیں انعامات دیتا۔ وہاں سے میرا تبادلہ امام احمد بن حنبل اسکول میں ہوا تو میں نے یہ سلسلہ وہاں بھی جاری رکھا۔ اب وہی معمول عثمان عفان اسکول میں بھی مروج ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعیناتی کے بعد میں نے پہلی جماعت کو پڑھانے کا خود فیصلہ کیا کیونکہ بچے کی تعلیم میں یہ مرحلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اسی مرحلے میں بچہ اچھے سے لکھنا اور پڑھنا شروع کرتا ہے۔ اس مرحلے میں زیادہ محنت بچے کے اگلے تمام مراحل کو آسان بنا دیتی ہے۔ میرا دعویٰ ہے کہ پہلی جماعت کے جس بچے کو میں نے لکھنا پڑھنا سکھایا وہ اگلے مراحل میں کامیاب رہا ہے۔

عبدالوھاب کا کہنا تھا کہ میرا مقصد بچوں میں تعلیم کے لیے جوش اور جذبہ پیدا کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں