اردن: یونیورسٹی طالبہ کے قاتل شخص نے پولیس کے گھیراؤکے بعدخود کو گولی مار لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

اردن کی پبلک سکیورٹی نے اتوار کے روز ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت عمان میں یونیورسٹی کی طالبہ ایمان ارشید کو فائرنگ سے قتل کرنے والے شخص نے حکام کے گھیرے میں آنے کے بعد خود کو گولی مار لی ہے۔

اردنی حکام نے ابھی تک اس شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی اورانھوں نے فوری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا وہ خود کو لگنے والی گولی کے زخم کے نتیجے میں ہلاک ہوگیا ہے یا ابھی زندہ ہے۔

ایمان کے قاتل نے خود کو دائئں کنپٹی پر گولی مار لی
ایمان کے قاتل نے خود کو دائئں کنپٹی پر گولی مار لی

میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو عمان کی اطلاقی سائنس پرائیویٹ یونیورسٹی کے کیمپس میں 21 سالہ طالبہ ایمان اس شخص کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئی تھی۔اس نے طالبہ کے سر میں چھے گولیاں ماری تھیں۔

جائے حادثہ کے مقام پر بنائی جانے والی تصاویر

اردن کے ذرائع ابلاغ نے جنرل سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ طبی عملہ نے دوشیزہ کو تشویش ناک حالت میں اسپتال منتقل کیا تھا مگرڈاکٹروں نے اس کو مردہ قراردے دیا تھا۔

سکیورٹی حکام نے حملہ آور کی شناخت اور اسے گرفتار کرنے کے لیے فوری کارروائی شروع کردی تھی۔وہ جب سکیورٹی فورسز کے محاصرے میں آگیا تواس نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خودکو اپنے ہتھیار سے گولی مارلی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں